خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 587
خطبات طاہر جلد ۲ 587 خطبه جمعه ۱۸/ نومبر ۱۹۸۳ء بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ) کہ اللہ تمہیں خبر دے گا وہ تمہیں سب کو بتائے گا کہ تمہارے اعمال خدا تعالیٰ کے نزدیک کیا درجہ رکھتے تھے۔پس مومن کے لئے تو قرآن بہت کافی کتاب ہے، آغاز سے لے کر انجام تک کے سارے حالات جو بیان کرنے کے لائق ہیں وہ بیان کر دیتا ہے۔اس ایک ہی آیت میں مبتدی کے پہلے قدم سے جو اس کے لئے اس کے ذہن میں سوالات اٹھ رہے تھے ان کا حل کرنا شروع کیا اور آیت میں ہی انجام تک کی باتیں بتادیں۔اتنی دور کی باتیں بتا دیں جن کا زندگی سے تعلق ہی کوئی نہیں وہ مرنے کے بعد کی باتیں ہیں ، آغاز سے انجام تک کی بات کرنے والی یہ چھوٹی سی آیت ہدایت کے ہر مضمون پر حاوی نظر آ رہی ہے، سارے مسائل حل کر رہی ہے اور ابھی اس کے بہت سے حسین پہلو مخفی ہیں جن تک ہر انسان کی ہر وقت نظر نہیں پہنچ سکتی۔یہ آیت حسب حالات ان پہلوؤں کو خود ہی ظاہر فرماتی چلی جائے گی۔پس جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے میں انہیں بار بار بڑے زور اور قوت کے ساتھ کہتا ہوں کہ عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ جب بھی آپ یہ آواز بلند ہوتی دیکھیں ، وہ مشرق سے بلند ہو یا مغرب سے ، شمال سے ہو یا جنوب سے کہ تم گمراہ ہو تو پہلا فرض جو تم پر عائد کیا گیا ہے اور پہلا تقاضا جو قرآن مجید تم سے کرتا ہے وہ یہ ہے عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ فورا اپنے نفس کے محاسبے کی طرف متوجہ ہو جاؤ کیونکہ جب دھمکیاں دی جاتی ہیں تو بعض دفعہ کچھ نقصان بھی پہنچتے ہیں، تم اپنے نفوس کا محاسبہ کرو، اگر تم متقی ہو، اگر تمہارا دین اللہ کے لئے خالص ہے تو پھر خدا فرما تا ہے کہ ہم تمہیں یقین دلاتے ہیں کہ تمہیں کوئی خطرہ نہیں۔ہمیشہ جب خطرات کے بادل گرجتے ہیں تو انسان گردو پیش کا محاسبہ کیا کرتا ہے۔ظاہری طور پر بھی جب بادل گرجتے ہیں کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ لوگ بعض دفعہ کوٹھوں کی چھتوں پر چڑھتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کہیں سوراخ تو نہیں رہ گیا ، یہ نہ ہو کہ بارش ہو جائے اور اس وقت ہم پکڑے جائیں پھر باہر جانے کا بھی وقت نہ رہے۔تو ہر معقول آدمی گر جتے ہوئے بادلوں سے وقت پر فائدہ اٹھاتا ہے اور اپنے حالات کا جائزہ لیتا ہے جو خطرے کے رستے ہیں ان کو بند کرتا ہے اور ہر قسم کی ضروریات اور زادراہ کو اکٹھا کر لیتا ہے۔آپ نے کبھی کیٹریوں کو نہیں دیکھا کہ خدا نے انہیں بھی یہ توفیق عطا فرمائی ہے کہ جب موسم بدل رہے ہوتے ہیں، جب بادل گرج رہے ہوتے ہیں