خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 585 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 585

خطبات طاہر جلد ۲ 585 خطبه جمعه ۱۸/ نومبر ۱۹۸۳ء اس بات کا فیصلہ کہ کیا واقعتہ یہ ہورہا ہے؟ خدا ہی کرتا ہے لیکن انسان کو اس بات کا پابند ضرور کرتا ہے کہ جب اس قسم کے جھگڑے چل پڑیں کہ کون ہدایت یافتہ ہے؟ کون گمراہ ہے؟ اور ان جھگڑوں کا بظاہر کوئی حل نظر نہ آرہا ہو تو فرمایا تم سب لوگ اپنے اندرونہ کی طرف متوجہ ہو جاؤ تم اپنے قریب ترین ہو جو دشمن تمہیں گمراہ سمجھ رہا ہے وہ سطحی نظر سے دیکھ رہا ہے وہ تو اس بات کا مجاز ہی نہیں کہ تمہیں کچھ کہہ سکے لیکن تم اس بات کے مجاز ہو کیونکہ تم اپنے اندرونہ کو جانتے ہو اس لئے اس سے خوف نہ کرو اپنے نفس سے خوف کھاؤ۔یہ خیال کرو کہ اگر تمہارے نفس نے تمہیں ملزم کر دیا تو پھر تم نہیں بچ سکو گے اور اگر نفس نے ملزم نہ کیا تو پھر تمہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا۔کتنا عظیم الشان اصول ہے جس نے سارے جھگڑوں کو ختم کر دیا۔ایک اور علامت یہ بیان فرمائی کہ جو ہدایت یافتہ ہو وہ دوسرے کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کرتا۔یہ ظاہری علامت ہے ورنہ اندرونی علامت ہی صرف بیان فرمائی جاتی تو ہر شخص یہ کہنے لگ جاتا کہ ہم نے اپنے نفس میں ڈوب کر دیکھ لیا اور ہمیں سب کچھ صاف نظر آیا ہے ، ہم بالکل ٹھیک ہیں اس لئے ہم ہدایت یافتہ ہیں اور ہمارا دشمن اور مد مقابل گمراہ ہے، تو ایک اور جھگڑا شروع ہو جاتا۔قرآن کریم ایک کامل کتاب ہونے کے لحاظ سے ہر مضمون کے ہر پہلو کو بیان فرماتا ہے اور ہر خطرہ کو پیش نظر رکھ کر اس کا حل پیش کرتا ہے۔فرمایا جہاں تک تمہاری ذاتوں کا تعلق ہے تم اپنے گواہ خود بن جاؤ اور جہاں تک غیروں کی نظر میں فیصلے کا تعلق ہے تو بہت کھلی کھلی بات ہے ہم گمراہوں کی یہ نشانی بتاتے ہیں کہ وہ دوسروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں اور ہدایت یافتہ کی نشانی یہ ہے کہ وہ دوسرے کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔پس آفاقی نظر سے دیکھنے والوں کے لئے یہ ایک علامت مقررفرما دی۔کیسی حیرت انگیز کتاب ہے! جوں جوں آپ اس پر غور کریں اس کے عاشق ہوتے چلے جاتے ہیں۔کسی مضمون کا کوئی باریک سے باریک پہلو ایسا نہیں ہے جو یہ آپ پر کھولتی نہ ہو۔پھر فرمایا کہ یہ جھگڑے تو چند روزہ ہیں۔ہوسکتا ہے کہ تم میں سے بعض ان فیصلوں کو نہ دیکھ سکیں جو خدائی تقدیر ظاہر کرے گی۔کسی کی عمر کی مدت کم ہے کسی کی زیادہ ہے اور جہاں تک قومی زندگیوں کا تعلق ہے وہ تو بعض دفعہ کئی نسلوں پر پھیلنے کے بعد پھر وہ یہ دیکھتی ہیں کہ کیا فیصلہ ہوا ہے، ہمارے حق میں ہوا ہے یا ہمارے خلاف۔یعنی قومی