خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 584
خطبات طاہر جلد ۲ 584 خطبه جمعه ۱۸ نومبر ۱۹۸۳ء خطرے تمہیں اپنے نفس کی طرف سے لاحق ہیں اور ہم تمہیں ہر غیر کے خطرہ سے آزاد کر دیتے ہیں۔ اگر تمہارے نفوس پاک ہیں، اگر تمہارا اندرونہ پاک اور مطہر اور صاف ہے اور اس لائق ہے کہ خدا اس میں نازل ہو، اگر تمہارے اعمال صاف اور سیدھے ہیں اور ان میں چالاکیاں اور گندگیاں شامل نہیں ہیں تو پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ کام تم کر لو اور جہاں تک غیروں کا تعلق ہے انہیں ہم سنبھالیں گے۔ لَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمُ اگر تم واقعتہ اخلاص اور دیانتداری سے ہدایت پر قائم رہو گے تو لا يَضُرُّ كُمْ تمہیں ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ منْ ضَلَّ جو خود گمراہ ہے وہ لاکھ تمہیں گمراہ سمجھے، گمراہ کہتا رہے، خدا نے اسے اختیار ہی نہیں دیا کہ وہ من حیث القوم تمہیں نقصان پہنچا سکے۔ یہاں گم کا خطاب فرما کر یعنی کم کہہ کر جو خطاب فرمایا اس میں قومی مصالح کا ذکر فرمایا ورنہ انفرادی طور پر تو جب سے دنیا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مصلحین آئے اور نبوت جاری ہوئی ہم ہمیشہ یہی دیکھتے ہیں کہ بعض لوگوں کی جانیں لی گئیں ، دکھ دیئے گئے اور بعضوں کے گھر جلائے گئے ۔ تو اس آیت کا ایسا ترجمہ تو ہم نہیں کر سکتے جو سنت اللہ کے خلاف ہو اور قرآن کریم ساری تاریخ اس طرح بیان فرمارہا ہو کہ اس ترجمہ کے وہ مخالف پڑی رہے۔ یہ تو نہیں ہو سکتا اس لئے قرآن کریم کی روشنی میں ہی قرآن کریم کی آیات کا ترجمہ ہوگا۔ مراد یہ ہے کہ تم بحیثیت قوم مخاطب ہو تمہیں جب بحیثیت قوم گمراہ قرار دیا جائے گا اور نقصان پہنچانے کی کوشش کی جائے گی تو اللہ تمہارے لئے کافی ہے، ہم تمہیں یہ خوشخبری دیتے ہیں اور ہرگز تمہیں قومی طور پر کسی سے دینے کی اور اس خطرہ کی ضرورت نہیں کہ وہ ہمیں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ تو یہ ترجمہ جو ہم کرتے ہیں اس کے حق میں قرآن کریم کی ساری تاریخ کھڑی نظر آتی ہے۔ قرآن کریم کی ہر انگلی جو اٹھ رہی ہے وہ اسی ترجمہ کی طرف اٹھ صلى الله رہی ہے۔ آدم سے لے کر حضرت محمد مصطفی علی تک ہزارہا مرتبہ گمراہ قرار دینے والوں نے یہ آزما کر دیکھ لیا کہ وہ جنہیں گمراہ سمجھتے تھے حالانکہ وہ خدا کے نزدیک ہدایت یافتہ تھے انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو ہر دفعہ ناکام رہے اور من حیث الجماعت ان کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکے اور جب وہ باز نہیں آئے تو اپنا نقصان اٹھایا اور خدا کی نظر میں وہ مغضوب ٹھہرے اور جنہیں اپنے خیال میں وہ مغضوب بنا رہے تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کے شر اور فتنوں سے بچا کر ہمیشہ ترقی عطا فرمائی۔