خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 583 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 583

خطبات طاہر جلد ۲ 583 خطبه جمعه ۱۸/ نومبر ۱۹۸۳ء بھی طاقت نہیں کہ خوشبوؤں کے درمیان جو فرق ہیں انہی پر ہی عبور حاصل کر سکے، انسان کو تو اتنی بھی طاقت نہیں کہ بد بوؤں کے درمیان جو فرق ہیں ان پر عبور حاصل کر سکے، رنگوں میں بھی بہت فرق ہیں اور اتنے Hues and Shades ہیں اور پھر ان میں باریک در بار یک سایہ بہ سایہ فرق پڑتے چلے جاتے ہیں کہ انسان کو ابھی تک یہ طاقت بھی نہیں کہ ان کے الگ الگ نام ہی رکھ سکے اور پوری طرح بتا سکے کہ کسی دوسرے رنگ کی آمیزش سے یہ شیڈ بنتا ہے اور اس سے اگلا اور پھر اس سے اگلا شیڈ کس طرح بنے گا۔ابھی انسان اس علم میں جستجو کر رہا ہے اور عبور تو کسی حالت میں بھی کسی علم پر بھی نہیں ہوسکتا۔تو کیا ہدایت اور گمراہی ہی کوئی ایسی چیزیں ہیں کہ سب ایک ہی معیار کی ہوں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔خدا تعالیٰ کی اس کائنات میں اتنا تنوع ہے اور اس طرح کائنات کا ہر شعبہ پھیلتا چلا جاتا ہے اور اندرونی طور پر منقسم ہوتا چلا جاتا ہے کہ اس کی کوئی حدوبست ہی نہیں۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان بیچارے کو کیا علم ہے ، جب تک خدا نہ چاہے اور جتنا خدا چاہے اس سے زیادہ علم انسان حاصل ہی نہیں کر سکتا۔وَلَا يُحِيطُونَ بِشَئُ مِنْ عِلْمِةٍ إِلَّا بِمَا شَاءَ (البقرہ : ۲۵۶) که انسان ایسا کم عقل اور کم علم ہے کہ لَا يُحِيطُونَ بِشَيْ مِنْ عِلْمِةٍ إِلَّا بِمَا شَاءَ ایک ذرہ علم کا بھی ایسا نہیں جس پر وہ احاطہ کر سکے۔ہاں اتنا سا علم اسے ضرور مل جاتا ہے جتنا خدا چاہے کہ ہاں میں دینا میں چاہتا ہوں۔وہ اپنے زور بازؤں سے خدا تعالیٰ سے علم حاصل کر ہی نہیں سکتا۔تو جب انسان کی ناطاقتی اور بے بضاعتی کی یہ کیفیتیں ہوں اور پھر خدا تعالیٰ نے اس پر یہ فضل بھی فرما دیا ہو اور اسے ان جھنجھنوں سے آزاد بھی کر دیا ہو کہ تمہارا کام ہی نہیں ، تم چپ کر کے بیٹھو یہ ہمارا کام ہے، ہم فیصلے کریں گے، تو پھر انسان کو خواہ مخواہ کیا مصیبت پڑی ہے کہ ان چیزوں میں دخل دے اور اگر کوئی دخل دیتا ہے تو قرآن کریم مومن کو اور ہدایت یافتہ کو اس کے خوف سے بھی آزاد کرتا ہے اور کامل طور پر اطمینان دلاتا ہے کہ اگر کوئی غلطی سے تمہیں گمراہ سمجھ رہا ہے اور غلطی سے اپنے آپ کو دارونہ سمجھ رہا ہے اور غلطی سے یہ سمجھ رہا ہے کہ جسے میں گمراہ سمجھوں اسے گمراہی کی سزا بھی دے سکتا ہوں تو اس سے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ (المائده: ۱۰۲) کہ اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو ہم تمہیں اصل خطرات سے متنبہ کرتے ہیں ، اصل