خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 582
خطبات طاہر جلد ۲ 582 خطبه جمعه ۱۸/ نومبر ۱۹۸۳ء پس اول تو قرآن کریم نے انسان کو اس بات سے آزاد کر دیا کہ وہ تردد کرے اور اس مصیبت میں مبتلا ہو کر وہ فیصلے دیتا پھرے کہ کون گمراہ ہے اور کون نہیں ، اس آیت کا یہ بھی بڑا احسان ہے، اس کی طرف بھی تو نظر چاہئے کہ کتنی بڑی مصیبت سے ہمیں چھٹکارا دلایا ہے۔جو کام ہمارے بس کے نہیں تھے ان کاموں میں سے ہمیں نجات بخشی اور فرمایا کہ اللہ کا کام ہے اللہ فیصلہ فرمائے گا کہ کون ہدایت یافتہ ہے اور کون گمراہ ہے، ہاں جہاں تک تمہارا تعلق ہے تم اگر ہدایت یافتہ ہو تو اخلاص اور دیانتداری کے ساتھ کوشش کرو کہ تمہاری ہدایت پھیلے اور تم جنہیں گمراہ سمجھتے ہو ان تک دیانتداری سے ہدایت کا پیغام پہنچاؤ لیکن داروغگی کا تمہیں اختیار نہیں دیا جائے گا کہ تم عدالت کی کرسیوں پر بیٹھ کر یہ فیصلے دو اور پھر ان فیصلوں کے مطابق ان سے سلوک شروع کر دو۔یہ ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا مقصد جسے بھولنے کے نتیجہ میں بہت سی خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں یعنی جب خدا کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہی کام ہے کہ وہ ہدایت دے یا ہدایت یافتہ قرار دے، دونوں معانی ہیں اس آیت کے، اللہ ہی کا کام ہے کہ وہ کسی کو اس کے اعمال کی وجہ سے گمراہ کر دے یا گمراہ قرار دے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے نتائج کی ذمہ داری بھی اللہ تعالیٰ پر ہے۔یہ بھی اسی آیت کا ایک مفہوم ہے اور جب خدا کسی کو ہدایت یافتہ قرار دے گا تو پھر ان بندوں کو غیروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں ہے۔انہیں کوئی ضرورت نہیں ہے کہ لوگوں کے پاس جا کر اپنا اجر مانگیں کہ دیکھو ہم ہدایت یافتہ ہیں ہم سے یہ سلوک کرو۔نہ انہیں علم نہ ان کا کام۔ہدایت یافتہ قرار دینا یا سمجھنا جس کا کام ہے اور جسے علم ہے وہی اجر بھی عطا فرماتا ہے اور جسے وہ گمراہ ٹھہرا دے اس کی پکڑ سے پھر کوئی دوسری قوم اسے بچا بھی نہیں سکتی۔چنانچہ ہدایت یافتہ قرار دینا یا گمراہ ٹھہرانا اس طبعی نتیجہ کو بھی چاہتے ہیں کہ کسی کو ہدایت یافتہ قرار دینے کے جو لوازمات ہیں وہ بھی اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں اور وہی جانتا ہے کہ کس ہدایت یافتہ کو کیا جزا دینی ہے اور اسی طرح وہی بہتر جانتا ہے کہ جس کو اس نے گمراہ قرار دیا اس کی گمراہی کا درجہ کیا تھا۔اب یہ بھی ایک ایسا پہلو ہے جو بہت بار یک در باریک فرق رکھتا چلا جاتا ہے۔اگر کوئی واقعتہ گمراہ ہو بھی اور کسی اور کوعلم ہو کہ ہاں یہ گمراہ ہے اور اس کا علم سچا ہو تب بھی گمراہی کے بہت سے درجے ہیں۔کوئی ادنیٰ درجہ کا گمراہ ہے کوئی اس سے بڑا اور کوئی اس سے بڑا اور یہ ایسا سلسلہ شیڈوں (Shades) کا ، اتنے فرق ہیں کہ انسان ان پر عبور حاصل کر ہی نہیں سکتا۔انسان کو تو اتنی