خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 581
خطبات طاہر جلد ۲ 581 خطبه جمعه ۱۸/ نومبر ۱۹۸۳ء کر کے صحیح فیصلہ نہیں دے سکتا۔کس معاشرہ میں کوئی پیدا ہوا، کن حالات میں وہ پروان چڑھا ، اس کے پس نظر میں کیا بدیاں اور نیکیاں تھیں اور ان سارے حالات میں اس کو ہدایت کا پیغام کیسے پہنچا، وہ مؤثر طریق پہ پہنچایا غلط طریق پہ پہنچا، اس کے طبعی نتائج کیا مترتب ہونے چاہئیں تھے۔یہ چند سوالات ہیں جن کی آگے بے شمار شاخیں ہیں اور ایسا ممکن ہے کہ ایک شخص بظاہر ہدایت پر نہ ہولیکن خدا کے نزدیک وہ گمراہ نہ لکھا جائے کیونکہ جس چیز کو وہ دیانتداری سے ہدایت سمجھتا ہے اس پر دیانتداری سے عمل پیرا ہو۔چنانچہ قرآن کریم کی بہت سی آیات اس پہلو پر بھی روشنی ڈال رہی ہیں اور نہ سمجھنے والے ان سے دھو کہ کھا جاتے ہیں اور بعض دفعہ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ دیکھو قرآن کریم نے یہود اور نصاری کو یہ کہا کہ تم اپنی کتابوں پر عمل کرو، تو جب عمل کے متعلق تلقین فرمائی تو پھر لا زماوہ کتا ہیں سچی تھیں پھر کسی اور عمل کی کیا ضرورت ہے حالانکہ یہ ضرورت ہے اور مراد یہ تھی کہ تمہاری دیانتداری اور تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ جس چیز کوتم ہدایت سمجھتے ہو اس پر ضرور عمل کرو اور اگر تم خدا تعالیٰ کے نزدیک متقی شمار ہو گے اور خدا تعالیٰ یہ یقین کرے گا اور یہ علم رکھتا ہوگا کہ تم ہدایت پانے کے اہل نہیں تھے یا وہ وسائل تمہیں میسر اور مہیا نہیں تھے جن کے نتیجہ میں ایک انسان ہدایت پاسکتا ہے لیکن جہاں تک تمہارا بس تھا، جہاں تک تمہارے اندر صلاحیتیں ودیعت فرما رکھی تھیں تم نے پوری سچائی اور دیانتداری سے جسے سچ سمجھا اس پر عمل کیا۔تو اس صورت میں اللہ تعالیٰ تم سے شفقت اور عفو کا سلوک فرمائے گا۔یہ ہے قرآن کریم کی اس آیت کا مفہوم ! پس ہدایت بھی مختلف قسم کی ہیں اور ہر انسان کے ہدایت پانے کے وسائل بھی مختلف قسم کے ہیں اور ہر دوسرے انسان سے اس کا پس منظر مختلف ہے، قوموں کے پس منظر مختلف ہیں۔بعض ایسی قومیں ہیں جو ہزاروں سال سے موجود ہیں لیکن ان میں اب تک دین کا پیغام ہی نہیں پہنچا اور در حقیقت انہیں مہذب دنیا میں شمار ہونے والے کسی بھی مذہب کی طرف سے پیغام نہیں پہنچایا گیا۔ایسی قوموں سے متعلق اگر انسان فیصلہ کرتا تو وہ بے چاری تو گمراہ شمار کر کے تباہ و برباد کر دی جاتیں اور ہر مذہب والا یہی فیصلہ کرتا کہ یہ گمراہ ہیں۔بعض قوموں کے متعلق بعض مذاہب یہ فیصلہ دیتے ہیں کہ یہ گمراہ ہیں لیکن بعض بد قسمت قو میں ایسی ہیں جن سے متعلق ہر مذہب کی انگلی اٹھتی ہے کہ یہ یقینا گمراہ ہیں۔