خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 580 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 580

خطبات طاہر جلد ۲ 580 خطبه جمعه ۱۸/ نومبر ۱۹۸۳ء خلوص، تقویٰ اور اس عزم کے ساتھ کہ ہم اس کی بتائی ہوئی راہوں پر لازماً چلیں گے ایسے مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّین لوگوں کے لئے یہ ہر لحاظ سے کافی ہے اور اس کے بعد کسی اور چیز کی حاجت نہیں رہتی۔جہاں تک ہدایت پر چلنے والوں کا تعلق ہے سب سے پہلا اور اہم سوال جوان کے سامنے اٹھتا ہے وہ یہ ہے کہ ہماری ہدایت کے بارے میں فیصلہ کرنے کا کس کو اختیار ہوگا؟ ہم کیسے ہدایت یافتہ شمار ہوں گے اور کیسے گمراہ لکھے جائیں گے؟ کوئی اس کے لئے معین اسلوب تو ہونا چاہئے۔من يهده الله فلا مضل له و من يضلله فلا هادى له۔دیکھو ہدایت کا فیصلہ کرنا خدا نے صرف اپنے ہاتھ میں رکھا ہے اور تم اس بارے میں بے نیاز ہو جاؤ کہ دنیا تمہیں کیا کہتی ہے۔کسی انسان کو اللہ تعالیٰ نے نہ یہ استطاعت دی نہ یہ طاقت عطا فرمائی اور نہ ہی اس کا یہ منصب مقرر فرمایا ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ کون ہدایت یافتہ ہے اور کون گمراہ ہے۔جسے اللہ ہدایت یافتہ قرار دے گا وہی ہدایت یافتہ ٹھہرے گا، وہی ہدایت یافتہ قرار پائے گا اور جسے اللہ گمراہ کہے گا دنیا کی ساری طاقتیں بھی اس کے ہدایت یافتہ ہونے کا فتویٰ دیں تب بھی اس کا کوئی فائدہ نہیں۔کیسی عظیم کتاب ہے جو پہلے قدم پر ہی ہر غیر اللہ سے آزاد کر دیتی ہے اور فرماتی ہے کہ تم اپنے خدا کی طرف نگاہیں رکھنا ، خدا کی طرف اپنے خیالات اور جذبات کا رخ موڑے رکھنا اور یاد رکھنا کہ اگر خدا نے تمہیں گمراہ قرار دے دیا تو پھر اگر تمہیں دنیا کی طاقتیں ہدایت یافتہ کہیں گی بھی تو تمہارے کسی کام کی نہیں اور اگر خدا کے نزدیک تم ہدایت یافتہ رہو گے تو پھر تمہیں کوئی خوف نہیں ، کوئی خطرہ نہیں ہم لازم ہدایت یافتہ ہو۔قرآن کریم کی اس تعلیم میں جو مزید خوبیاں ہیں اگر آپ غور کریں تو وہ اور بھی کھلتی چلی جاتی ہیں۔اگر خدا تعالیٰ انسانوں کو یہ اختیار دیتا کہ کسی کو ہدایت یافتہ قراردیں یا کسی کو گمراہ لکھ دیں اور پھر اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ بھی پابند ہو جاتا کہ اس کے مطابق ہی فیصلہ کرے تو دنیا میں تو انسان کا یہ حال ہے کہ اسے خود اپنی بھی خبر نہیں ، اپنے نفس سے بھی واقف نہیں ہے، وہ غیروں کے حالات کیسے جان سکتا ہے ، وہ دوسروں کے دلوں میں کب جھانک کر دیکھنے کی طاقت رکھتا ہے کہ وہ یہ فیصلہ دے سکے کہ فلاں گمراہ ہے اور پھر ہدایت اور گمراہی سے متعلق فیصلہ دینے سے پہلے جن تفاصیل کی ضرورت ہے وہ اتنی زیادہ ہیں کہ کوئی بڑے سے بڑا انسان اور بڑے سے بڑا محقق بھی ان تمام تفاصیل پر نظر