خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 579
خطبات طاہر جلد ۲ 579 خطبه جمعه ۱۸ نومبر ۱۹۸۳ء قرآن کریم کا اسلوب ہدایت ( خطبه جمعه فرموده ۱۸ نومبر ۱۹۸۳ء بمقام مسجد اقصیٰ ربوه ) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے درج ذیل آیت قرآنی تلاوت فرمائی: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ إِلَى اللَّهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ (المائده : ۱۰۶) اور پھر فرمایا : قرآن کریم ہدایت کی ایک ایسی کتاب ہے کہ جو ہر اس انسان کو جو اس سے ہدایت چاہتا ہے پہلے قدم سے لے کر اس کے منتہا تک ہدایت کے تمام اسلوب سکھاتی چلی جاتی ہے اور ہر قدم پر ساتھ دیتی ہے۔ یہ ایک ایسی راہنما کتاب ہے جو منازل کے تمام خطرات سے واقف ہے اور ہر قدم پر جس قسم کے ابتلا مسافر کو یا سالک کو پیش آسکتے ہیں ان سے بکلی باخبر ہے اور ہر اس مسافر کو جو راہ ہدایت کا مسافر ہے اور قرآن کریم سے راہنمائی چاہتا ہے ہر خطرہ سے وقت پر آگاہ کرتی چلی جاتی ہے اور اس سے بچنے کے طریق سکھلاتی چلی جاتی ہے، نئے حوصلے عطا کرتی چلی جاتی ہے۔ غرضیکہ ایک لمحہ کے لئے بھی راہ سلوک پر چلنے والے کا ساتھ نہیں چھوڑتی ۔ جب ہم اس پہلو سے قرآن کریم پر غور کرتے ہیں تو حسبنا کتاب اللہ کا معنی خوب سمجھ آ جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب ان کے لئے جو اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں پورے