خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 575
خطبات طاہر جلد ۲ 575 خطبه جمعه ۱۱/ نومبر ۱۹۸۳ء پڑے گا جس سے زیادہ مستحق لوگ سامنے آئیں۔چونکہ ربوہ میں رہنے والوں کو ہم باقی شہروں کی نسبت زیادہ نیک اور زیادہ خدا ترس دیکھنا چاہتے ہیں اس لئے تقویٰ کو بھی اس معیار میں داخل کیا گیا ہے۔ویسے یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ خدمت خلق میں تقویٰ کے معیار کو پیش نظر رکھنا شرط نہیں ہے بلکہ قرآنی تعلیم تو بعض منافقین اور ظالموں پر بھی خرچ کرنے سے نہیں روکتی بلکہ بعض صحابہ نے جب قسمیں کھائیں کہ ہم فلاں گندے لوگوں پر خرچ نہیں کریں گے تو قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی: وَلَا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ ( النور : ٢٣) کہ تم میں سے جو صاحب فضیلت لوگ ہیں وہ ایسی قسمیں نہ کھائیں کہ فلاں پر ہم خرچ نہیں کریں گے اور فلاں پر خرچ نہیں کریں گے اس لئے یہ مراد بہر حال نہیں ہے کہ غریب کی ہمدردی کے وقت لا ز ما نیکی کوملحوظ رکھنا چاہئے۔لیکن مرکز کے تقاضوں کے پیش نظر ایک زائد شرط ہمیں عائد کرنی پڑے گی کیونکہ یہ تو مجبوری ہے ہم ہر ایک کو تو فی الحال بنا کر دے بھی نہیں سکتے یعنی جب خدا توفیق بڑھائے گا تو پھر جماعت جتنے زیادہ مکان دے سکے گی دے گی لیکن فی الحال ہمیں مجبوراً کچھ ایسی شرطیں رکھنی پڑیں گی کہ دائرہ محدود ہو جائے۔اس سکیم کو میں وسعت دینا چاہتا ہوں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ جلسہ جو بلی تک ہم کم از کم ایک کروڑ روپے کی لاگت سے مکان بنا کر غربا کو مہیا کر دیں یعنی جماعت کے جو سو سال گزر رہے ہیں ان کے ہر سال پر صرف ایک لاکھ روپیہ اگر ہم ڈالیں تو ایک کروڑ بن جاتا ہے اور پھر بعد میں انشاء اللہ ایک کروڑ مکانات بھی ہوں گے لیکن فی الحال ایک کروڑ روپے کی تحریک کی جاتی ہے۔میرا گزشتہ سال کا وعدہ دس ہزار روپے کا تھا جو میں نے ادا کر دیا تھا بہت ہی معمولی رقم تھی۔اب میں اپنے اس وعدہ کو بڑھا کر ایک لاکھ کر رہا ہوں اور آئندہ چار سال میں انشاء اللہ یہ وعدہ پورا کر دوں گا۔باقی دوست جو ایک لاکھ کے وعدے کر چکے ہیں وہ غالباً تین یا چار اور ہیں تو پانچ لاکھ کا تو اس طرح اکٹھا انتظام ہو گیا جو اس سے پہلے وعدے آچکے ہیں ان کو شامل کر لیا جائے۔یعنی ان پانچ لاکھ کے علاوہ اگر ہمیں اتنی دوست ایک ایک لاکھ کا وعدہ کرنے والے مل جائیں تو انشاء اللہ تعالیٰ بڑی آسانی کے ساتھ یہ معاملہ طے ہو جائے گا لیکن کوشش یہ کرنی چاہئے کہ ادائیگی میں جلدی کی جائے کیونکہ میں اس کو صد سالہ سکیم کا حصہ بنانا چاہتا ہوں یعنی جس سال ہم صد سالہ جشن منا رہے ہوں اس