خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 573 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 573

خطبات طاہر جلد ۲ 573 خطبه جمعه ۱۱/ نومبر ۱۹۸۳ء نے اپنی ترقی کی انتہا پر جا کر سیکھا ہے لیکن قرآن کریم ہمیں یہ بتاتا ہے کہ خدا نے آدم کو جب تہذیب سکھانی شروع کی تو اس کے آغاز میں پہلی تعلیم یہ تھی کہ جنت کا تصور یہ ہے کہ اس میں روٹی کپڑا اور مکان مہیا ہونے چاہئیں۔چنانچہ جب مکانوں کی طرف بھی جماعت احمد یہ پوری طرح توجہ کرے گی تو جنت کا وہ کم از کم تصور جو بنی نوع انسان کے حقوق سے تعلق رکھتا ہے اسے مکمل کر لے گی۔اس میں اضافے ہوں گے اور ہوتے چلے جائیں گے کیونکہ آنحضرت ﷺ نے جوتعلیم دی ہے اس نے اس میں بہت ہی زیادہ حسن پیدا کر دیا ہے اور بہت ہی وسعت پیدا کر دی ہے لیکن جیسا کہ تمام احباب جماعت کو علم ہے کہ ہم پر دوسری ذمہ داریاں بھی کچھ کم نہیں۔ان میں عبادت سے تعلق رکھنے والی بھی ہیں اور خدمت خلق کے دوسرے تقاضوں کو پورے کرنے والی بھی اتنی زیادہ ہیں کہ ہم اپنی خواہش کے مطابق فی الحال غربا کی ہمدردی میں اتنا خرچ نہیں کر سکتے جتنا کہ ہماری تمنا ہے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہماری توفیق کو انشاء اللہ بڑھاتا چلا جائے گا اور جوں جوں توفیق بڑھے گی ہم اس میدان میں بھی آگے بڑھتے چلے جائیں گے۔میرے دل کی یہ خواہش ہے کہ ساری دنیا میں ہمدردی کرنے والوں میں سب سے زیادہ ہمدردی کا عملی اظہار جماعت احمدیہ کی طرف سے ہو اور دنیا میں کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ موسیٰ" کی جماعت نے بنی نوع انسان کی یہ خدمت کی اور عیسی کی جماعت نے یہ خدمت کی اور محمد مصطفی ﷺ کی جماعت نعوذ باللہ پیچھے رہ گئی اس لئے جہاں تک مذاہب کے مقابلہ کا تعلق ہے فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرات کو پیش نظر رکھتے ہوئے میرے دل میں خدا تعالیٰ نے اس معاملہ میں بے انتہا جوش پیدا کیا ہے۔میں یہ چاہتا ہوں کہ جماعت احمد یہ بنی نوع انسان کی ہمدردی میں ایسے عظیم الشان کام سرانجام دے جو اپنی وسعت کے ساتھ اپنی شدت میں بھی بڑھتے رہیں یہاں تک کہ جماعت احمد یہ ساری دنیا میں بنی نوع انسان کی سب سے زیادہ ہمدردی رکھنے والی اور ہمدردی میں عملی قدم اٹھانے والی جماعت بن جائے اور آنحضرت ﷺ کے دین کو اس پہلو سے بھی ساری دنیا کے ادیان پر غلبہ نصیب ہو جائے۔چنانچہ خدمت خلق کی مختلف تحریکات جو جماعت میں جاری ہیں ان میں سے جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا بیوت الحمد کی تحریک ایک ایسی تحریک ہے جوگزشتہ سال جاری کی گئی۔اس کی رپورٹ کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر چہ اس تحریک پر کوئی غیر معمولی زور نہیں دیا گیا تھا کیونکہ گزشتہ مالی سال کے