خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 567 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 567

خطبات طاہر جلد ۲ 567 خطبه جمعه ۲۴ نومبر ۱۹۸۳ء کر دینا چاہئے۔ مچھر کے لئے دوائیاں انہیں مل سکی ہیں یا نہیں اس کا تو علم نہیں لیکن مکھی کے لئے تو وافر مقدار میں دوائی آچکی ہے۔ اسے چھوٹے چھوٹے پیکٹوں میں بند کر کے گھروں میں تقسیم کریں۔ صدران محلہ یا خدام کی معرفت یا پھر کارکنان کے ذریعہ بازاروں میں اس کی عام Application ئے ۔ مساجد میں جہاں جوتیاں رکھی جاتی ہیں ان کے پاس اگر بوریاں بھگو کر رکھ دی جائیں تو مکھیاں اس کی طرف مائل ہو جاتی ہیں کیونکہ اس میں سے ایک خاص بو بھی نکلتی ہے جو مکھی کو کھینچتی ہے۔ اسی طرح کھڑکیوں اور دہلیزوں وغیرہ پر رکھوانے کا انتظام کیا جائے ۔ اس کے علاوہ پبلک گندگی کے جو اسٹور بنے ہوئے ہیں ان پر بھی چھڑکاؤ کا انتظام کیا جائے تو خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت تھوڑے عرصہ میں مکھی کا تقریباً قلع قمع کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے تین حصوں میں تیاری کرنی چاہئے ایک Application ابھی ہو جائے ، پھر جلسہ کے قریب لیکن اتنا بھی قریب نہ ہو کہ مکھی کھانے میں مرنا شروع ہو کیونکہ جب وقت تھوڑا رہ جائے تو اس وقت ابھی دوائی تازہ ہوتی ہے اور اگر مکھیاں بچی ہوئی ہوں تو وہ اس پر بیٹھ کر مرتی نہیں بلکہ بعض دفعہ کمزور ہو جاتی ہیں تو پھر سالن یا دودھ میں گر کر جان دے دیتی ہیں تو اس طرح کافی گند پڑتا ہے۔ پس جلسہ سے پہلے ضروری ہے کہ جو مکھی مارنی ہے وہ پہلے سے مار چکے ہوں ۔ پھر تیسرا مرحلہ جلسہ کے معا بعد کیونکہ کچھ نہ کچھ بچی ہوئی مکھیاں جلسہ کی غذا پر خوب نشو و نما پاتی ہیں ۔ لہذا اگر آپ جلسہ کے فوراً بعد انتظام کر دیں گے تو انشاء اللہ تعالیٰ ربوہ ایک ایسا شہر بن جائے گا جو مکھی سے پاک ہو گا اور اس لحاظ سے خدا کے فضل سے مشرق میں ایک نمونہ کا شہر ہوگا۔ جہاں تک انتظامیہ کے کاموں کا تعلق ہے انہیں جو کام عارضی طور پر کرنے ہیں ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو کمیٹی کے تعاون اور اجازت کے ساتھ ( جہاں اجازت اور تعاون ضروری ہو ) سڑکوں پر راہ نمائی کے لئے بورڈ آویزاں کئے جائیں اور یہ کوشش کرنی چاہئے کہ مختلف جگہوں کی اچھی طرح راہنمائی ہو جن میں آنے والے دلچسپی رکھتے ہیں اور اسی طرح سڑکوں کے چھوٹے چھوٹے نقشے بنا کر بورڈوں کے اوپر یا نیچے آویزاں کئے جاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بعض کام مستقل نوعیت کے ہیں جیسے پبلک Toilets اور لیٹرینز وغیرہ کا انتظام ہے۔ ہمارے ملک میں یہ ایک بڑی کمزوری ہے۔ نہ صرف ہمارے بلکہ مشرق کے بہت