خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 555
خطبات طاہر جلد ۲ 555 خطبه جمعه ۲۸ اکتوبر ۱۹۸۳ء زور لگا رہی ہے۔تحریک کے دفاتر میں بھی وسعت پیدا ہو رہی ہے۔واقفین زندگی طوعی طور پر کاموں کے لئے جو وقت دیتے میں سمجھتا ہوں اب وہ پہلے سے بڑھ کر وقت دے رہے ہیں۔ان میں بیداری کی ایک عام رو پیدا ہو گئی ہے۔یہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا ایک نشان ہے کہ کارکنوں میں ایک غیر معمولی احساس پیدا ہو چکا ہے کہ اہم کام ہمارے سپرد ہونے والے ہیں ، ہمیں بھی تیاری کرنی چاہئے۔یه ساری باتیں اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور رحمتوں کی نشاندہی کر رہی ہیں اور جماعت کو میں اس لئے بتاتا ہوں کہ وہ ایک نئے ولولے اور نئے جوش کے ساتھ نئے سال میں داخل ہوں اور اپنی قربانیوں کے معیار کو اور بھی بڑھائیں گویا ع نرخ بالا کن که ارزانی ہنوز اپنی جنس کی قیمت کو بالا کر دے کہ ابھی بھی تو ارزاں ہے ابھی تو سستا ہے۔جہاں تک جماعت احمدیہ کی قدر و قیمت کا تعلق ہے یہ تو قربانیوں سے وابستہ ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ہمارے اندرا بھی بھی قربانیوں کے بہت میدان کھلے پڑے ہیں۔اگر آپ تلاش کریں تو آپ کو ایسے ہزار ہا احمدی مل جائیں گے جو ابھی لازمی چندہ جات میں بھی شامل نہیں ہوئے اور ہزارہا کو ان کے خاندانوں کی تعداد سے ضرب دے دیں تو وہ تعداد ایسی ہے جو تحریک جدید میں شامل ہوسکتی ہے لیکن ابھی شامل نہیں ہو سکی اس لئے یہ کہنا کہ ہم اپنے منتہا کو پہنچ گئے ہیں اور اتنی ہی جماعت کو توفیق ہے بالکل غلط بات ہے۔ہمارے اندر اللہ تعالیٰ کے فضل سے نہ صرف یہ کہ خدمت کی توفیق زیادہ ہے بلکہ امر واقعہ یہ ہے کہ اس توفیق کے مقابل پر جماعت جس تیزی سے پھیل رہی ہے وہ بھی تو ایک ایسا میدان ہے جو قربانیوں میں اضافے کے مزید تقاضے کرتا رہے گا۔خدا کے فضل سے ساری دنیا میں لوگ احمدیت میں داخل ہورہے ہیں اور ساری دنیا کے ممالک میں جماعت وسعت پذیر ہو رہی ہے۔جماعت میں نئے آنے والوں کی تعداد ہی کو شامل کر دیا جائے تو اگلے سال نمایاں فرق ہونا چاہئے۔اس لئے مجھے تو مزید ترقی کے بہت کھلے میدان نظر آ رہے ہیں اور میں امید رکھتا ہوں اور خدا کا ہمیشہ یہ سلوک رہا ہے کہ جب ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اب حد ہو گئی اس سے آگے بظاہر کوئی قدم بڑھنے کی جگہ نہیں رہی تو اللہ تعالیٰ پھر نیا میدان کھول دیتا ہے، پھر جماعت اور زیادہ آگے قدم بڑھاتی ہے اس لئے میں