خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 49
خطبات طاہر جلد ۲ 49 49 خطبه جمعه ۲۱ جنوری ۱۹۸۳ء کے قلعے میں شامل رہیں۔لیکن اگر انہوں نے احمدیت کے ساتھ چل کر ایسے مناظر پیش کرنے ہیں جن کو دیکھ کر گھن آتی ہے تو بہتر ہے کہ وہ خود الگ ہو جائیں۔اگر وہ خود الگ نہیں ہونگے تو نظام جماعت کو انہیں الگ کر نا پڑے گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم عورتوں کے حقوق پوری طرح ادا کریں۔جماعتیں اس بات کی نگرانی رکھیں اور حتی المقدور پیار اور محبت کے ساتھ پہلے اصلاح کی کوشش کریں۔اگر جماعتیں ان کی اصلاح میں ناکام ہو جائیں تو پھر مجھے لکھیں کہ فلاں فلاں مرد ایسے ہیں جو ہر گز احمدی کہلانے کے مستحق نہیں ہیں۔اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے کہ ہم جلد از جلد معاشرے کی ساری بیماریوں کو دور کر سکیں۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: خطبہ میں میں نے جس واقعہ کا ذکر کیا ہے اس میں جو پہلی نسل یعنی بیوہ کا دکھ ہے جو خاوند کے ڈوب جانے کے حادثے کے نتیجہ میں پیدا ہوا۔جماعت احمد یہ بھی ایک حد تک یوں اس کی ذمہ دار ہے کہ بیوہ کا دکھ کم کرنے اور نگہداشت کرنے کی ذمہ داری جماعت سنبھالتی۔آخر اسلام نے بیوگان کی نگہداشت کے بارہ میں اور ان کی دوبارہ شادیوں کے بارہ میں جو تعلیم دی ہے اگر احمدی سوسائٹی اس طرف توجہ نہ کرے اور فوری طور پر بیوگان کی سر پرست نہ بن جائے ، اسلامی تعلیم بتا کر ان کی غلط قدروں کو زائل کرنے کی کوشش نہ کرے اور ان کو صیح اسلامی تعلیم سے آگاہ کر کے اچھے نیک مردوں سے جو یتامی کا خیال رکھ سکیں ان کی دوبارہ شادی کا انتظام نہ کرے تو اس بے اعتنائی کی وجہ سے پہلی نسل کے دکھ میں جماعت بھی کسی حد تک شریک ہو جاتی ہے۔خطبہ میں میں یہ بات بھی بتانی چاہتا تھا لیکن اس وقت نظر سے رہ گئی۔اب اس کو بھی شامل کر لیں کہ جہاں بھی بیوگان اور یتامیٰ پائے جائیں جماعتیں فوری طور پر ان کی سر پرستی کا انتظام کریں اور ان کی مادی ضروریات کے علاوہ اخلاقی اور روحانی ضروریات کا بھی خیال رکھیں۔روزنامه الفضل ربوه ۲۹ / مارچ ۱۹۸۳ء)