خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 48
خطبات طاہر جلد ۲ 48 خطبه جمعه ۲۱ جنوری ۱۹۸۳ء بن گئے ہیں۔بچے پیدا ہور ہے ہیں لیکن ان کے لئے پورے سامان مہیا نہیں ہیں۔نہ کپڑے ہیں نہ دیکھ بھال کا پورا انتظام ہے۔پھر گرمیوں میں مچھروں کی وجہ سے راتوں کو جاگنا پڑتا ہے۔علاوہ ازیں وبائی بیماریاں ہیں جو پیچھا نہیں چھوڑتیں۔مرد محسن بھی ہوں تب بھی عورتیں ان مصیبتوں کی چکی میں پیسی جاتی ہیں۔سارا دن مردوں کے کھانے پکانے ، بچوں کی دیکھ بھال، ان کے گند صاف کرنے ، راتوں کو ان کے لئے جاگنا، ان کی بیماریوں میں ان کے لئے تڑپنا اور خدمت کرتے کرتے راتوں کے بعد راتیں اپنی نیند حرام کر دینا اور بعض اوقات سکون کا لمحہ بھی نصیب نہ ہونا ، ان حالات سے عورت کو بہر حال دو چار ہونا پڑتا ہے۔اگر مرد شفیق بھی ہو تب بھی یہ بڑی سخت زندگی ہے۔خدا ہمیں توفیق دے کہ ہم ان سارے دکھوں کو دور کریں لیکن یہ دور آنے پر خدا جانے کتنا وقت لگے لگا۔مگر یہ کہاں کی انسانیت ہے کہ ان دکھوں میں مرد ایک یہ لعنت داخل کر دے کہ وہ ظالم بن جائے اور عورت کا احسان مند ہونے کی بجائے اس پر تحکم کرے اور اس پر بدظنیاں کرے۔وہ اس کے لئے بچے پیدا کرے اور مرد کہے کہ تم بد چلن ہو۔ایسا ظالم اور سفاک ہو کہ اس کو کسی طرح چین نہ لینے دے اس کا جسم بھی جہنم میں جھونک دے اور اس کی روح بھی جہنم میں جھونک دے۔ایسا شخص تو انسان کہلانے کا بھی مستحق نہیں ہے کجا یہ کہ وہ اسلام کی طرف منسوب ہو اور اسلام بھی وہ جو آج احمدیت کی شکل میں دنیا کے سامنے نمودار ہوا ہے جس پر ابھی لمبا زمانہ نہیں گزرا۔پس ایسے مردوں کو میں توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی اصلاح کریں۔اسی طرح جماعتوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ نگرانی کریں کہ اگر ایسے مردوں کی اصلاح نہ ہوئی اور وہ ظلم اور سفاکی سے باز نہ آئے تو اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ ان کو جماعت سے الگ کر دیا جائے۔جس اسلام کو جماعت احمدیہ پیش کرے گی لازما اس کے نیک نمونے ساتھ لے کر چلے گی ورنہ ہمیں فتح نصیب نہیں ہوگی۔ان بدنمونوں کو اپنے پہلو میں سمیٹ کر چلنے کی ہم میں طاقت نہیں۔پس اگر وہ اسلام کا ایک پاک نمونہ پیش کر کے جماعت کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں تو وہ جماعت کے ساتھ بے شک چلیں۔اللہ تعالیٰ ان کو توفیق عطا فرمائے کہ وہ پہلے سے بڑھ کر پاک نمونے پیش کریں۔ان کے گھروں میں ایسی عورتیں ہوں جو گواہی دیں کہ ہمارے مرد دوسرے مردوں سے زیادہ رحیم ، زیادہ شفیق اور اور زیادہ محبت اور پیار کرنے والے اور ہمارا زیادہ خیال رکھنے والے ہیں۔اگر وہ ایسے ہیں تو وہ حق رکھتے ہیں کہ احمد بیت