خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 541
خطبات طاہر جلد ۲ 541 خطبه جمعه ۲۱ اکتوبر ۱۹۸۳ء ہماری کیفیت یہ ہے کہ ہم آپ کے آگے بھی لڑیں گے، آپ کے پیچھے بھی لڑیں گے، آپ کے دائیں بھی لڑیں گے، آپ کے بائیں بھی لڑیں گے اور ممکن نہیں کہ کوئی ہاتھ کوئی وجود، کوئی جسم آپ تک پہنچ سکے جب تک وہ ہماری لاشوں کی روند تا ہوا نہ آئے۔(الجامع الصحیح البخاری کتاب المغازی باب اذ تستعيثون ربکم) یہ ایک بہت ہی عظیم الشان واقعہ ہے اور ایسا پیارا جواب ہے کہ تاریخ عالم میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔اسی نوعیت کے چھوٹے چھوٹے واقعات ان عظیم واقعات کی برکت سے پیدا ہور ہے ہیں۔حضرت محمد مصطفی ﷺے اور آپ کے بچے غلام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا تعارف صلى الله جب پوری شان کے ساتھ کسی قوم کے ساتھ ہو تو پھر ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں۔پس وہ لوگ بھی جب یہ بیان کر رہے تھے تو وہ میری نظر میں ایسا ہی مقام رکھتے تھے کہ جن پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی حیثیت اور مرتبہ پوری طرح روشن نہ تھا، احمدی ہونے کے باوجود بھی مقام مسیحیت ان پر پوری طرح روشن نہیں تھا اور وہ احمدیت کی روح کو اچھی طرح نہیں سمجھتے تھے۔چنانچہ جب ان پر یہ روشن ہوا تو یہ قربانی کا جذبہ ایک طبعی امر اور قدرتی چیز تھی جس نے ظاہر ہونا ہی ہونا تھا، ایک قانون تھا جسے کوئی بدل نہیں سکتا۔پس سب سے بڑا پھل جو لے کر ہم لوٹے ہیں۔جس سے دل کناروں تک اللہ تعالیٰ سے راضی ہے وہ یہی ہے کہ جماعت احمدیہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک حیرت انگیز نمایاں، پاک اور عظیم الشان انقلابی تبدیلی واقع ہو رہی ہے اور وہاں کے نو جوان ، بوڑھے اور بچے خدمت دین کے جذبہ سے اس قدر سرشار ہوئے کہ انہیں دیکھنے سے ایمان تازہ ہونے لگا۔چنانچہ جب ہم سفر سے روانہ ہوئے تو اس وقت جو ان کے دلوں کی کیفیت تھی حقیقت ہے کہ وہ الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتی۔اخلاص کا ایک عجیب سمندر تھا اور ان کی آنکھیں یہ پیغام دے رہی تھیں کہ ہم ہر وہ بات یاد رکھیں گے جو آپ نے ہمیں کہی۔ہم اپنے تصور میں بھی یاد رکھیں گے، اپنے دل میں بھی یادرکھیں گے، اپنے عمل میں بھی یادرکھیں گے اور انشاء اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ ہم سے اچھی خبریں آئیں گی۔جب ہم آسٹریلیا پہنچے تو نبی کے ایک نوجوان جن کی معمولی اقتصادی حالت تھی اور انہیں اتنی توفیق نہیں تھی کہ وہ کرایوں میں اتنی رقمیں خرچ کریں، وہ ہمارے پیچھے پیچھے آسٹریلیا پہنچ گئے۔جب پوچھا کہ آپ کس طرح آئے تو انہوں نے کہا کہ میرا دل اس قدر بے قرار ہو گیا تھا کہ برداشت نہیں