خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 540 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 540

خطبات طاہر جلد ۲ 540 خطبه جمعه ۲۱ اکتوبر ۱۹۸۳ء بات کا بھی ذکر تھا۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ اس جماعت نے جواثر قبول کیا ہے اس کا وہ اظہار کرنا چاہتے ہیں۔اس کے علاوہ بھی کئی موقعوں پر انہوں نے یہ بیان کیا کہ ہم غفلت کی حالت میں رہے ہیں جس کے لئے ہم کثرت سے استغفار کر رہے ہیں اور درخواست کرتے ہیں کہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہماری گزشتہ غفلتیں معاف فرمائے اور ہم نے جونئی زندگی حاصل کی ہے نیا جنم لیا ہے، اللہ تعالیٰ اس میں ہمیں بیش از پیش ترقیات عطا فرماتا چلا جائے۔انہوں نے مجھ سے کہا کہ اب تو جو ہماری کیفیت ہے اسے ہم الفاظ میں بیان نہیں کر سکتے ہمارا ایک نیا وجود ابھر آیا ہے اور آج ہمیں معلوم ہو چکا ہے کہ احمد بیت کیا ہے اور اس علم کے بعداب ہمارے جذبات یہ ہیں کہ ہمارا بچہ بچہ ہماری عورتیں ، ہمارے بوڑھے ، ہمارے جوان شہادت کے لئے بخوشی تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم مبالغہ نہیں کر رہے، ہم یقین دلاتے ہیں کہ اسلام کی خاطر ہم سب کی جانیں حاضر ہیں۔اگر وہ بکریوں کی طرح ذبح کی جائیں تب بھی ہمیں کچھ بھی پرواہ نہیں ہوگی۔ہمارے اموال ہماری عزتیں حاضر ہیں اور اس یقین کے ساتھ آپ واپس لوٹیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے خدمت کی جس راہ پر بھی آپ بلائیں گے ہم حاضر ہوں گے۔ایسا روح پرور وہ نظارہ تھا کہ اگر چہ میرا دل پہلے بھی ان کی زبان سمجھ رہا تھا جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے لیکن جب الفاظ میں انہوں نے بیان کیا تو میری توجہ اس واقعہ کی طرف پھر گئی جو عظمت میں اس سے بہت بلند ہے لیکن دراصل اسی کے صدقے اس قسم کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔جنگ بدر کا وہ منظر جب کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے غلاموں سے پوچھا تھا کہ مجھے مشورہ دو، یہ ایک لمبا واقعہ ہے جو بار بار آپ سن چکے ہیں لیکن پھر بھی اس کا مزہ آتا ہی رہتا ہے۔اس کا باقی متعلقہ حصہ یہ ہے کہ جب انصار نہیں بولے اور پھر حضور اکرم ﷺ نے بار بار پوچھا کہ مجھے مشورہ دوتو تب انصار کے ایک نمائندہ نے کہا یا رسول اللہ ! شاید آپ کی مراد یہ ہے کہ جب آپ ابتدا میں تشریف لائے تو اس وقت ہم نے یہ معاہدہ کیا تھا کہ مدینہ کے اندر تو ہم آپ کے ساتھ لڑیں گے لیکن مدینہ سے باہر نکل کر نہیں لڑیں گے۔شاید اس معاہدہ کی حضور کی توجہ منتقل ہورہی ہے امر واقعہ یہ ہے کہ اس وقت تک ہم آپ کی ذات اور مرتبہ کو پہچانتے ہی نہ تھے، اس وقت ہم اسلام سے ناواقف تھے، اب تو