خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 539
خطبات طاہر جلد ۲ 539 خطبه جمعه ۲۱ اکتوبر ۱۹۸۳ء تو اپنی جگہ ٹھیک ہے) کہ فجین کے متعلق یہ تو معلوم کر لیں کہ انہیں نظام جماعت کا علم بھی ہے کہ نہیں ؟ ان سے یہ توقع رکھنا کہ جس طرح قادیان کے تربیت یافتہ اور قدیمی بزرگوں کے پالے ہوئے لوگ ہیں ویسے ہی وہ بھی نمونہ دکھائیں گے، جب تک انہیں بتائیں گے نہیں کیسے دکھا ئیں گے؟ صرف میرا ہی یہ تاثرنہیں تھا بلکہ میرے ساتھیوں کا بھی یہی تاثر تھا کہ اکثر شکائتیں ان کی نا سمجھی اور لاعلمی کے نتیجہ میں پیدا ہوئی ہیں۔چنانچہ جب ہم نے ان سے اس موضوع پر گفتگو شروع کی اور ساری شکایات سنیں حالات کا تجزیہ کیا تو انہیں اس معاملہ میں بالکل بے قصور پایا۔انہوں نے اپنے اندر حیرت انگیز طور پر تبدیلی پیدا کی اور اخلاص میں اس تیزی کے ساتھ ترقی کی کہ یہ چیز الفاظ میں بیان نہیں ہوسکتی۔ان کی فدائیت کا جذ بہ کسی پہلو سے بھی پاکستان کے مخلص احمدیوں سے کم نہیں ہے۔ان میں خدمت کی روح نہ صرف موجود ہے بلکہ جب ہم نے اسے چھیڑا تو یوں لگتا تھا کہ جیسے وہ چھلک چھلک کر کناروں سے باہر نکل رہی ہے۔وہ لوگ تبلیغ کے لئے مستعد ہیں اور خدا کی خاطر ہر چیز قربان کرنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔شروع شروع میں اس قدر بے اعتنائی کا رنگ تھا اور ان کی آنکھوں میں نا واقفیت کی وجہ سے جو ایک اجنبیت کی پائی جاتی تھی، چند دن کے بعد ہی جب ہم واپس آئے ہیں تو ان میں گہری محبت نے جگہ لے لی اور ان کی آنکھوں ، اداؤں اور چہروں کے آثار میں نہایت گہرا خلوص نظر آنے لگا اور ان کی پیشانیوں سے پختہ ارادے ظاہر ہونے لگے اور ہم نے مشاہدہ کیا کہ ان کی نمازیں جو پہلے خشک تھیں پھر تر ہونے لگیں اور بکثرت ایسے احمدی دیکھے جو پہلے ہمارے ساتھ ایک ہلکی سی ناواقفیت سے نماز پڑھتے تھے۔پھر ان کی کیفیت میں ایسی گہری تبدیلی پیدا ہو گئی کہ ان کی سجد گا ہیں آنسوؤں سے بھیگ جاتی تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے انہیں عشق کی حد تک بڑی گہری محبت ہے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ جب ہم نے انہیں قریب سے دیکھ کر ان کی تربیت شروع کی تو چند دن کے اندر اندر ہی یوں معلوم ہوتا تھا کہ ایک نئی قوم وجود میں آگئی ہے۔چنانچہ جب یہاں سے اوکاڑہ کے ناصر احمد شہید کی خبر وہاں پہنچی تو ان لوگوں کی جو کیفیت تھی وہ میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا اور ان کے امیر نے الوداع کے وقت جو آخری تقریر کی اس میں اس