خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 536
خطبات طاہر جلد ۲ 536 خطبه جمعه ۲۱ اکتوبر ۱۹۸۳ء نجی ایک چھوٹا سا ملک ہے جو Pacific Ocean یعنی بحرالکاہل کے درمیان واقع ہے۔ اس کے جزائر کی تعداد ۵۰۰ ہے لیکن آبادی اور اقتصادیات کا زیادہ تر انحصار چند جزیروں پر ہے جن میں سے دو بڑے بڑے اور بعض چھوٹے چھوٹے جزیرے ہیں۔ نجی کی آبادی پانچ لاکھ اسی ہزار ہے۔ آخری Census کے مطابق نجی کا کل رقبہ سات ہزار میل ہے اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ وہ ایک چھوٹی سی جگہ ہے۔ ۵ لاکھ ۸۰ ہزار کی آبادی میں سے چائنیز کی تعداد ۵ ہزار کے لگ بھگ ہے اور یورپین کی کچھ اس سے کم اس طرح متفرق اقوام کی تعداد ۱۲ ہزار کے لگ بھگ ہے۔ یورپین میں سے کچھ Mixed Races ( مخلوط نسلیں ) ہیں ان کی تعداد کم و بیش دس ہزار کے قریب ہے۔ اس کے علاوہ باقی آبادی میں معمولی اکثریت ہندوستانیوں کو حاصل ہے یعنی ہندوستانی نژاد جن میں پاکستانی علاقوں کے لوگ بھی شامل ہیں اور نصف سے کچھ کم نمین لوگ ہیں۔ فجین کون ہیں ان سے متعلق مختلف مورخین نے مختلف آراء پیش کی ہیں۔ ان کی تاریخ یقینی تفصیل کے ساتھ محفوظ نہیں ہے بہر حال ماہرین نے مختلف پہلوؤں سے جو اندازے لگائے ہیں اس کے مطابق محین قوم پولینیشین پولینیشین (Polynesian) اور ملائیشین کے امتزاج سے بنی ہے اور اس پر کچھ Negroid اثر بھی موجود ہے ۔ دو بڑی قومیں ہیں ۔ پوتین پیشین Pacific کے علاقوں میں آباد ہیں۔ اپنیشین Polynesian اور ملائیشین دونوں کا دائرہ زیادہ تر - قوم Polynesian انڈونیشیا سے شروع ہوتا ہے اور پھر آگے نجی تک چلا جاتا ہے۔ ملایا میں بھی یہی نسل آباد ہے۔ یہ لوگ کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں اس سے متعلق ماہرین کی مختلف آراء ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ ان کا آغاز عرب سے ہوا، بعض کا خیال ہے کہ ہندوستان کے قدیم باشندے یا یوں کہنا چاہئے کہ مشرق وسطی کے قدیم باشندے مدے ؟ جو Arian نسل سے تعلق رکھتے ہیں وہ بعد میں آ کر کر ہے پہلے پہل انڈونیشیا میں آباد ہوئے، پھر وہاں سے پھیلنا شروع ہوئے لیکن جہاں تک نبی کا تعلق ہے اس میں دونوں طرف سے لوگ آئے ہیں ، مشرق کی طرف سے اور مغرب سے بھی آئے ہیں اور ان کے خون کا امتزاج ہو گیا ہے۔ بعض لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ ان کا Origin یا ان کا آغاز افریقہ سے ہوا تھا اور افریقہ میں بھی وہ خاص طور پر یوگنڈا کے بعض علاقوں کے نام بتاتے ہیں کہ وہ وہی ہم شکل نام ہیں جو یہاں پائے جاتے ہیں لیکن ان سب آراء پر غور کرنے کے بعد آج کل کے محققین جو نتیجہ