خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 529
خطبات طاہر ۲ 529 خطبه جمعه ۱۴ اکتوبر ۱۹۸۳ء احمد شہر میں اپنے احمدی دوستوں کے ساتھ جو مجالس ہوئیں ان کے نتیجہ میں دیکھتے دیکھتے یوں لگتا تھا کہ یوں کی کایا پلٹ رہی ہے۔ جب ہم وہاں پہنچتے ہیں تو اور قسم کے چہرے دیکھتے تھے پھر جب ناندی سے روانہ ہورہے تھے تو تھے تو کچھ اور قسم کے : قسم کے چہرے ظاہر ہو چکے تھے۔ ان میں عزم عزم تھا ان میں ارادے تھے نہ صرف یہ بلکہ انہوں نے خود ملاقاتوں اور مجالس میں کھل کر کہا کہ ہو گیا جو ہونا تھا غفلت کی جو حالت تھی وہ گزرگئی ۔ اب ہم وعدہ کرتے ہیں کہ آج سے ایک مبلغ کی طرح اپنی زندگیاں وقف رکھیں گے ہمارے دل میں خدمت اسلام کا ایک غیر معمولی جذبہ پیدا ہو چکا ہے ہم اسلام کی تبلیغ کرینگے اور ہر طرف خدا کا پیغام پہنچائیں گے۔ یہ پاک تبدیلیاں اللہ تعالی پیدا فرما رہا تھا، ایسی صورت میں کوئی بڑا ہی بے وقوف اور جاہل ہو گا جو یہ سمجھے کہ اس میں اس کی کوششوں کا دخل ہے۔ اس میں کسی انسانی کوشش کا دخل نہیں محض اللہ تعالیٰ کے احسانات ہیں ۔ چنانچہ منجین پر لیس کے نمائندے پہنچ گئے حالانکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے دوسروں کا پریس کے اوپر بھی بڑا اثر تھا۔ لوگ پریس کے نمائندوں کو روکتے تھے کہ ان کی باتیں نہیں سننیں لیکن اس کے باوجود پر لیس پہنچا اور بہت اچھا Coverage یعنی اخباری خبریں دیں۔ صرف یہی نہیں ریڈ یونچی نے اردو میں بھی اور انگریزی میں بھی قریباً ایک گھنٹے کا انٹرولیا اور پھر نشر کیا اور اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کی کہ لوگ انہیں کیا کہتے ہیں۔ پھر اس پر بھی تسلی نہ ہوئی تو انہوں نے کہا ہم آپ کی بیگم صاحبہ کا بھی انٹرویو لینا چاہتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے بیگم صاحبہ کا بھی انٹرویو لیا۔ پس یہ سامان کس نے کیا تھا ؟ میں نے تو نہیں کیا تھا نہ میرے اندر طاقت تھی اور نہ ہمارے نحین احمد یوں میں تھی جو بے چارے دینی لحاظ سے بہت کمزور ہیں ، وہ چند ہزار کی تعداد میں ہیں، کوئی دنیوی طاقت انہیں حاصل نہیں ، یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اس نے طاقت عطا فرمائی۔ سارے نبی کو اردو میں بھی اور انگریزی میں بھی احمدیت یعنی حقیقی اسلام کا پیغام پہچانے کی توفیق عطا فرمائی اور بھی بہت سے نشان بڑے دلچسپ واقعات ہیں جن کا ذکر انشاء اللہ بعد میں اجتماعات پر کروں گا ، پھر جلسہ سالانہ ہے اس میں بھی ذکر چلے گا، یہ لمبی باتیں ہیں میں نے جیسا کہ بیان کیا ہے یوں معلوم ہوتا تھا کہ تھوڑے سے وقت کے اندر واقعات اس طرح اکٹھے ہو گئے ہیں جس طرح کہتے ہیں کہ کھوے سے کھوا چھلتا ہے۔ یعنی کندھے سے کندھا ملا کر ایک جلوس جا رہا ہوتا ہے اس طرح واقعات ایک دوسرے سے مل کر چل