خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 526 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 526

خطبات طاہر ۲ 526 خطبه جمعه ۱۴ را کتوبر ۱۹۸۳ء چنانچہ ایسے ہندوستانی علما جو مدینہ یونیورسٹی کے پڑھے ہوئے اور بڑے چوٹی کے علما تھے وہ اپنے شاگردوں اور ساتھیوں کو لے کر وہاں پہنچے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے تقریر ہوئی اور پھر جب سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا تو احمدیت تو خدا کے فضل سے صداقت ہے اس کے لئے کسی خوف کا سوال ہی نہیں بھلا روشنی بھی کبھی اندھیرے سے ڈرتی ہے۔میں تو ان کو صاف اور کھل کر بتا تا رہا ہوں کہ اگر ہم روشنی ہیں تو تمہیں منہ چھپانا پڑے گا۔اندھیرے کے لئے روشن دانوں پر پردے ڈالے جاتے ہیں ، گرمیوں میں سورج کی تمازت سے بچنا چاہیں تو ہزار کوشش کی جاتی ہے کہ کسی طرح روشنی اندر داخل نہ ہو پس لوگ ڈرتے ہیں سورج تو اندھیرے سے کبھی نہیں ڈرا۔پس یہی کیفیت ہم نے وہاں دیکھی۔میں بڑی بے تکلفی کے ساتھ مگر اس کامل یقین کے ساتھ ان کے سوالات کا جواب دیتا تھا اور سمجھتا تھا کہ دیکھتے دیکھتے حقیقت کھل جائے گی اس لئے میں ان سے کہتا تھا جس کسی نے جو بھی سوال کرنا ہے کرے بے شک تلخ سے تلخ سوال بھی کیوں نہ ہو میں اس کا جواب دوں گا۔چنانچہ تھوڑے عرصہ کے اندر جو سوال ہوئے ان میں خدا تعالیٰ کے فضل سے سوالات کرنے والوں نے خود ہی اطمینان کا اظہار شروع کر دیا۔ایک طرف سوال کرتے تھے اور دوسری طرف تھوڑی دیر کے بعد کہہ دیتے تھے کہ ہاں بالکل ٹھیک ہے ہماری تسلی ہوگئی ، سر ہلانے لگ جاتے تھے ، کہنے لگ جاتے تھے۔چنانچہ وہاں ایک نحین پادری صاحب بھی آئے ہوئے تھے۔ان کی کیا پوزیشن ہے مجھے یاد نہیں ان کا ایک چرچ سے تعلق ہے اور شاید وہاں کے کسی تعلیمی ادارے کے لیکچرار بھی تھے بہر حال ان کی اچھی پوزیشن تھی نجی قوم سے تعلق رکھتے تھے۔انہوں نے ایک سوال کیا اس کے بعد ان کے چہرے پر بشاشت آئی پھر انہوں نے ایک اور سوال کیا اور اس کے بعد کھڑے ہوکر شکریہ بھی ادا کیا اور کہا کہ ہاں ہماری تسلی ہو گئی۔نہ صرف بعد میں احمدیوں سے ملے اور درخواست کی کہ میں تو لمبی ملاقات چاہتا ہوں۔اب تو میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں نے ملنا ہے اور مزید باتیں کرنی ہیں لیکن چونکہ وقت بہت ہی تھوڑا تھا پہلے سے پروگرام طے شدہ تھے اس لئے مصروفیت کی وجہ سے میں ان کو وقت نہیں دے سکا۔اب انشاء اللہ میرا ارادہ ہے کہ خط و کتابت کے ذریعہ ان سے رابطہ قائم رکھوں۔پس جب یہ اثر دیکھا تو ایک مولوی صاحب جو اپنی ٹیم کے ساتھ تشریف لائے ہوئے تھے