خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 47
خطبات طاہر جلد ۲ 47 خطبه جمعه ۲۱ جنوری ۱۹۸۳ء مسلمان دنیا میں بس رہے ہوں اور ایک چھوٹی سی بستی میں اس تصویر کی کوئی جھلک دکھائی نہ دے تو باہر کی دنیا کو آپ کس طرح اسلام کی طرف بلا سکتے ہیں؟ جن امور سے متعلق وہ گفتگو تھی ان کے کچھ نمونے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ربوہ میں موجود ہیں۔چنانچہ میں نے ان کو توجہ دلائی اور بتایا کہ اگرچہ ساری دنیا میں ہم پر بے شمار بوجھ ہیں اور خواہش کے باوجود تمام انسانی حقوق ادا کرنے کی ہم استطاعت نہیں رکھتے۔پھر بھی جو باتیں ہم کہتے ہیں ان کا کسی قدر نمونہ آپ کو ربوہ میں مل سکتا ہے۔میں نے ان کو تفصیل بتائی اور وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے مطمئن ہو گئے۔لیکن جہاں تک اسلامی معاشرے میں عورت کے مقام کا تعلق ہے،امر واقعہ یہ ہے کہ جب تک غیر معمولی طور پر پاکیزہ اور خوش حال اور جنت نشان سوسائٹی ہم پیدا نہیں کرتے اس وقت تک دنیا کی قومیں اس تعلیم کی طرف توجہ نہیں کریں گی۔دنیا کی عورت کو یہ محسوس ہونا چاہئے کہ احمدی عورت زیادہ خوش ہے اور زیادہ مطمئن ہے، اس کے گھر میں جنت ہے، اس کے پاؤں تلے جنت ہے، آئندہ نسلوں کو بھی وہ جنت کا پیغام دے رہی ہے اور موجودہ نسل کو بھی جنت کی طرف بلا رہی ہے۔پاؤں تلے جنت ہونے کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ آئندہ نسلوں کے لئے وہ ایسی جنت کا سامان چھوڑ رہی ہے کہ ان کی پاکیزہ نسلوں کو دیکھ کر لوگ ان ماؤں پر سلام بھیجیں گے اور ان کے لئے رحمت کی دعا کریں گے کہ بڑی ہی خوش قسمت ما ئیں تھیں جنہوں نے ایسے بچے پیدا کئے۔پس اس نقطہ نگاہ سے مرد پر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں وہ لا زمامرد کو ادا کرنی چاہئیں۔یہ درست ہے کہ بعض دوسرے جرائم اور بھیا نک نظام شکنی کے نتیجہ میں مقاطعہ کی یا نظام جماعت سے اخراج کی سزائیں دی جاتی ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ جو مرد بنیادی انسانی حقوق ادا نہیں کر سکتا اور جس میں رحمت اور شفقت نہیں ہے وہ اسلام کی طرف منسوب ہونے کا اہل ہی نہیں ہے۔اگر اس کا خیال ہے کہ وہ گھر میں ظلم و ستم روا رکھ کر اور غریب عورتوں کو دکھ دے کر اور محض تشدد کی مشین بن کر اسلامی حقوق ادا کر رہا ہے اس لئے وہ جنت میں چلا جائے گا تو یہ اس کا وہم ہے۔خواہ وہ کتنی ہی نمازیں کیوں نہ پڑھے وہ جنت میں نہیں جا سکتا۔وہ جنت الحمقاء میں تو جاسکتا ہے لیکن اس جنت میں نہیں جاسکتا جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کے لئے بنائی گئی ہے۔ہمارے معاشرے میں غریب گھروں کے کچھ ایسے دکھ ہیں جو ہماری زندگی کا ایک حصہ