خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 521 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 521

خطبات طاہر ۲ 521 خطبه جمعه ۱۴ را کتوبر ۱۹۸۳ء ہوتے ہیں۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے لوگوں کے ہاتھوں دکھ پر دکھ اٹھائے لیکن آپ بنی نوع انسان کو فائدہ پر فائدہ پہنچاتے چلے گئے اور اپنے عمل سے یہ ثابت کر دکھایا کہ خدا کی صفت رحمانیت سب سے زیادہ آپ کے وجود میں جلوہ گر ہوئی۔پھر رحیمیت ہے۔اس کا ایک تقاضا یہ ہے کہ جب آپ کسی پر رحم کریں، اس کے فائدہ کی بات سوچیں تو ایک دفعہ کر کے بھول نہ جایا کریں۔جس طرح خدا تعالیٰ انسان پر بار بار فضل اور رحم لے کر آتا ہے اسی طرح آپ کے ذریعہ بھی بنی نوع انسان اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور فضل حاصل کریں اور آپ کے اندر بھی صفت رحیمیت جلوہ گر ہو یعنی آپ کی کوشش یہ ہو کہ آپ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ بنی نوع انسان پر بار بار فضل فرمائے۔چنانچہ تبلیغ کر کے جو لوگ بھول جاتے ہیں وہ رحمان بنے کی تو کچھ کوشش کرتے ہیں لیکن رحیم نہیں بن سکتے اور پھلوں کا تعلق رحیمیت سے ہے۔دنیا میں جتنا بھی پھلوں کا نظام ہے اس کا تعلق رحیمیت سے ہے۔رحمانیت وہ مواد عطا کرتی ہے جس کے نتیجہ میں چیزیں جب ایک دوسرے کے ساتھ عمل میں آتی ہیں تو پھل لگ سکتے ہیں اور رحیمیت ہے جو پھل عطا کرتی ہے۔یہ رحیمیت کا تقاضا ہے کہ ہر محنت کا اچھا بدلہ دیتی اور ہر کوشش کے نتیجہ میں اس سے کئی گنا زیادہ عطا کرتی ہے۔چنانچہ آپ دیکھ لیں۔پھلوں کے مضمون میں ہر جگہ آپ کو رحیمیت کا کرشمہ نظر آئے گا۔مثلاً اگر خدا تعالیٰ دنیا میں محنت کا دس گنا یا سو گنا یا سات سو گنا بدلہ نہ دے رہا ہوتا تو یہ ساری زندگی مدتوں سے پہلے فنا ہو چکی تھی۔Evolution یا ارتقا جس رنگ میں بھی ہوا ہے وہ وجود میں ہی نہ آتا۔یہ دراصل رحیمیت کا کرشمہ ہے کہ وہ محنت کا بدلہ دے رہی ہے اور جتنی محنت کی جاتی ہے اس سے کئی گنا زیادہ بدلہ دیتی ہے۔زمیندار کو دیکھیں وہ محنت کر کے ایک بیج کا دانہ کھیت میں ڈالتا ہے اور وہ بعض صورتوں میں قرآن کریم کے مطابق کئی سو گنا بھی بڑھ سکتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔پس پھل کے اس نظام کا رحیمیت سے تعلق ہے۔خدا تعالیٰ کی قدرت صفت رحیمیت کے ما تحت بار بار وہ موسم لے کر آتی ہے اور وہ حالات پیدا کر دیتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ پھل لگیں اور انسان خدا تعالیٰ کی رحیمیت کے کرشمے دیکھے۔غرض تبلیغ میں بھی پھل تب لگے گا اور بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچانے کے آپ تب موجب بنیں گے جب آپ بڑے صبر کے ساتھ اور بڑی ہمت کے ساتھ اور نہایت مستقل مزاجی کے ساتھ خدا تعالیٰ کی صفت رحیمیت کے ساتھ تعلق جوڑ لیں گے اور رحیمیت