خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 522 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 522

خطبات طاہر ۲ 522 خطبه جمعه ۱۴ را کتوبر ۱۹۸۳ء کے تابع بھی بہت سی صفات ہیں۔چنانچہ قرآن کریم کا یہ ایک عجیب اسلوب ہے کہ خدا تعالیٰ کی بنیادی صفات جوسورۂ فاتحہ میں بیان ہوئی ہیں ان کو ادل بدل کر مختلف مواقع پر پیش کرتا چلا جاتا ہے جس سے انسان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی صفات کی ایک تصویر کھلتی چلی جاتی ہے جن میں صفت رحیمیت کارفرما ہوتی ہے اور یہ حقیقت روشن ہونے لگتی ہے کہ خدا تعالیٰ کی تمام صفات ان چار بنیادی صفات ہی کا پر تو ہیں جو سورۃ فاتحہ میں بیان ہوئی ہیں۔ایک بھی صفت ان سے باہر نظر نہیں آئے گی۔رحیمیت کا عدم کیا ہے، یہ صفت نہ ہو تو کیا پیدا ہوتا ہے۔خدا کی بعض منفی صفات ( منفی تو کوئی بھی چیز نہیں ) ان معنوں میں کہ قرآن کریم میں آپ کو رحیمیت کے برعکس صفات نظر آنے لگیں گی۔اسی طرح رحمانیت نہ ہو تو دنیا میں کیا تباہی مچتی ہے وہاں آپ کو خدا تعالیٰ کی بعض ایسی صفات نظر آئیں گی جو رحمانیت کے الٹ ہیں اور ایسی صفات ان قوموں کے لئے ظاہر ہوتی ہیں جو رحمانیت سے تعلق نہیں جوڑتیں۔پس بظاہر تو حمد کی صفات ہوتی ہیں لیکن انہی کے اندر تسبیح والا مضمون بھی آجاتا ہے اور سورۂ فاتحہ کا نظام ایک مکمل نظام ہے اس پر غور کرتے ہوئے جب آپ حمد کے مضمون میں داخل ہوں تو تفصیل سے سوچا کریں کہ ہم نے کس خدا سے تعلق جوڑا ہے اور کیا ہم بندوں کے لئے ویسا بن رہے ہیں یا نہیں۔اگر ویسا بنیں گے تو لازماً پھر آخر پر وہ نتیجہ پیدا ہو گا جس کی طرف سورہ فاتحہ ہمیں لے کر جارہی ہے۔مثلاً انسان رب بن جائے یعنی اپنے رنگ میں ربوبیت کی صفات پیدا کر لے، وہ رحمان بن جائے یعنی اپنے رنگ میں اور اپنے محدود دائرہ میں وہ اپنے اندر رحمانیت کی صفات پیدا کر لے، رحیم بن جائے اور اپنے دائرہ میں اور اپنی توفیق اور استطاعت کے مطابق رحیمیت کی صفات پیدا کرلے تو لازماً پھر مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ تک پہنچ جاتا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون کو کھولا اور فرمایا کہ سارے انبیاء میں سے صفت مالکیت کے کامل مظہر صرف حضرت محمد مصطفی ایل اے بنے ہیں۔یعنی آپ صفت مالکیت کے مظہر اتم تھے۔آپ نے اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت کی کامل صفات اختیار فرما ئیں۔صفت رحمانیت کی بھی کامل طور پر صفات اختیار فرمائیں اور پھر آپ نے حیرت انگیز طور پر رحمیت کی صفات بھی اختیار فرمائیں یہاں تک کہ نتیجہ آپ مالکیت تک پہنچ گئے یعنی اس خدا سے آپ کی محبت کا کامل تعلق پیدا ہوگیا جو مالک ہے۔ہر چیز اس کے قبضہ قدرت میں ہے اور ہر انجام اس کے ہاتھ میں ہے۔خدا تعالیٰ نے آپ کو مالکیت میں شامل