خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 517
خطبات طاہر ۲ 517 خطبه جمعه ۱۴ را کتوبر ۱۹۸۳ء کمزوریوں سے پاک نہیں ہیں اس لئے یہ نہ ہو کہ جب یہ لوگ ہمارے اندر آئیں تو اپنے بد خیالات اور بد رسوم اور کمزوریاں لے کر داخل ہو جائیں۔اور امر واقعہ یہ ہے کہ جب بھی مذاہب غلبہ پاتے ہیں یہ Process اور یہ واقعہ ضرور رونما ہو جاتا ہے۔چنانچہ ایک طرف تو یہ ہوتا ہے کہ داخل ہونے والے جب پہلوں کی کمزوریاں دیکھتے ہیں تو ان میں سے بعض ٹھو کر کھاتے ہیں اور واپس پھر رہے ہوتے ہیں یعنی مرتد ہورہے ہوتے ہیں۔وہ لوگوں کو قریب سے دیکھتے ہیں ، ان کو نظر آتا ہے کہ ان میں تو بہت سی بیماریاں ہیں، یہ تو اتنے اچھے نہیں جتنے سمجھ کر ہم داخل ہوئے تھے تو دوسری طرف بعض لوگ جو واپس نہیں جاتے بلکہ اکثر ہیں جو واپس نہیں جاتے مگر وہ ان کمزوریوں کا شکار ہو جاتے ہیں جو پہلے موجود ہوتی ہیں۔وہ کہتے ہیں کوئی فرق نہیں پڑتا جس طرح پہلے تھے اس طرح اب بھی ہیں اور پہلے اگر کمزور تھے تو یہ لوگ بھی تو کمزور ہیں ان کمزوریوں اور بدیوں میں مبتلا ہونے میں کوئی حرج نہیں۔پس وہ قوم بڑی بد قسمت ہوتی ہے جس کو خدا فتح نصیب کرے اور وہ خدا کی عطا کردہ اس فتح کے مزاج کو بگاڑ دے۔دوسری طرف یہ لوگ برائیاں لے کر آتے ہیں چنانچہ دیکھ لیں اسلام کی تاریخ میں اکثر بدعات اور نقائص ملکی حالات سے تعلق رکھتے ہیں۔ہندوستان کی اور قسم کی بدعات ہیں، وہاں اور قتسم کی رسوم ہیں جنہوں نے اسلام میں رواج پایا، ایران کی فتح کے وقت اور قسم کی بدیاں داخل ہوئیں۔عیسائی آئے تو کچھ اور قسم کی بدیاں لے کر آئے ، یہودی داخل ہوئے تو وہ اپنے مزاج کی بدیاں لے کر آئے، مشرک کچھ اور بدیاں لے کر آگئے تو آنے والے بھی اپنی ساری بدیاں چھوڑ کر نہیں آیا کرتے۔وہ کچھ بدیاں ساتھ لے کر آتے ہیں جن کی اصلاح کرنی پڑتی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے تسبیح کے ذریعہ ہمیں یہ پیغام دیا کہ نہ آنے والے پاک ہیں نہ تم پوری طرح پاک ہوا گر تم نے اپنے رب کی تسبیح نہ کی اور اس کی طرف متوجہ نہ ہوئے اور عاجزانہ یہ عرض نہ کیا کہ اے خدا! نہ صرف یہ کہ ہماری بدیاں ان تک نہ پہنچیں بلکہ انہیں بھی پاک فرما دے تاکہ ان کی بدیاں ہم میں داخل نہ ہوں۔اس وقت تک یہ فتح تمہارے کسی کام نہیں آ سکتی بلکہ ہو سکتا ہے کہ اس فتح کو تم بالکل اس لائق نہ رہنے دو کہ مذہبی تاریخ میں اس کی کوئی حیثیت باقی رہے۔یہ ایک لمبا مضمون ہے میں اس سے اگلے قدم میں داخل ہوتا ہوں۔