خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 516 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 516

خطبات طاہر ۲ 516 خطبه جمعه ۱۴ را کتوبر ۱۹۸۳ء إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًان فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرُهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا (النصر) جب خدا کی طرف سے فتح و نصرت عطا ہو تو اس وقت تمہیں چاہئے کہ خدا کی تسبیح کرو اور اس سے استغفار کرو۔بظاہر تو اس کا فتح سے کوئی تعلق نہیں ہے۔فتح کے وقت تو یہ کہا جاتا ہے کہ شادیانے بجاؤ ، اچھلو اور کو دو اور جشن مناؤ لیکن خدا تعالیٰ نے ان چیزوں میں سے کسی کا ذکر نہیں فرمایا۔بلکہ فرمایا جب خدا کی طرف سے نصرت آئے اور فتح ملے۔فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ تو خدا تعالیٰ کی تسبیح بھی کرنا، اس کی حمد کے ترانے بھی گانا اور استغفار بھی کرنا تا کہ تمہارے نفس میں انانیت کا اگر کوئی ادنی سا بھی کیڑا پیدا ہو تو وہ کچلا جائے، تمہاری توجہ اس طرف پھر جائے کہ جس ہستی نے یہ نصرت عطا کی ہے میں اس کی حمد کے گیت گاؤں ، جس نے ہمیں یہ فتح نصیب فرمائی ہے اس کی تسبیح کروں تسبیح و تحمید اس لئے ضروری ہے کہ اس کے بغیر اس فتح کا فائدہ کوئی نہیں ہوسکتا جو فتح دین کی فتح ہوا کرتی ہے اگر آپ تسبیح اور تحمید کے بغیر دین میں کوئی فتح حاصل کریں گے تو وہ ضائع چلی جائے گی اور بجائے فائدہ کے بسا اوقات نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔دین کا ایک غلبہ تو مقدر ہوتا ہے لیکن بعض دفعہ وہ مقدر ایسے وقتوں میں آجاتا ہے جب دین بگڑ چکا ہوتا ہے۔خدا نے تو وہ وعدہ پورا کر دیا اس نے دین کو فتح عطا کر دی لیکن لوگ بگڑ چکے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے عملاً وہ فتح بیکار ہو جاتی ہے۔چنانچہ ایسی کئی قومیں ہمارے سامنے ہیں جن کی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ خدا نے تو ان کو فتح عطا فرما دی لیکن بد قسمتی سے وہ لوگ بگڑ چکے تھے اور فتح سے استفادہ نہ کر سکے اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت ملے اور فتح عطا ہو تو فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ اپنے رب کی تسبیح کے ترانے گانا اور اس کی حمد کرنا یعنی دو طرح کی قوتیں اپنے رب سے حاصل کرنا۔ایک تو یہ کہ تسبیح کے ذریعہ خدا کے حضور یہ عرض کرنا کہ ہم تو نقائص سے پاک نہیں ہیں، ہماری تو ہر چیز میں غلطیاں ہیں اس لئے اے خدا! تو غلطیوں سے پاک ہے ہم تیری طرف متوجہ ہوتے ہیں اس فتح میں ہماری غلطیوں کے نتیجہ میں جو کمزوریاں رہ جائیں ان سے ان قوموں کو محفوظ رکھنا جو اسلام میں داخل ہو رہی ہیں۔یہ نہ ہو کہ ہم اپنی بدبختی سے اپنی کمزوریاں ان میں داخل کر دیں اور چونکہ یہ بھی