خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 46
خطبات طاہر جلد ۲ 46 خطبه جمعه ۲۱ جنوری ۱۹۸۳ء ساتھ کاٹا اور بہت کچھ جمع کیا ، صرف اس لئے کہ اس بچی کی زندگی بن جائے۔اس بچی کی شادی ایک ایسے بد قسمت انسان سے کی گئی جس نے مطالبہ کیا کہ مجھے غیر ممالک میں بھجواؤ تاکہ میں اس کی زندگی بہتر بناؤں۔اس بچی کی ماں نے اپنی ساری عمر کی جو پونجی جوڑ جاڑ کر رکھی ہوئی تھی ، بیچ کر اس کے باہر جانے کا انتظام کیا۔چنانچہ وہ غیر ممالک میں تعلیم کے لئے چلا گیا اور آہستہ آہستہ اس نے رابطہ توڑ دیا۔پھر معلوم ہوا کہ وہ واپس آگیا ہے اور اپنا پتہ بھی نہیں بتا رہا اور جس طرح ماں نے بیوگی کا زمانہ کا ٹا تھا اسی طرح اس کی بچی خاوند کی زندگی میں بھی ایک قسم کی بیوگی کے عالم میں زندگی بسر کر رہی ہے اور اس کا ایک بچہ بھی ہے۔یہ ایسے واقعات تو نہیں جن کے متعلق انسان یہ کہہ سکے کہ ان کے مرتکب لوگ اللہ تعالیٰ کی عقوبت کے نظام سے بچے رہیں گے۔ایک نسل کے بعد دوسری نسل کو ظلم اور درد کا شکار بنادینا انتہائی سفا کی ہے۔اس سفاکی کے جو بھی موجبات اور محرکات ہیں انہیں اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے لیکن اس قسم کے واقعات جس سوسائٹی میں ہورہے ہوں وہ اس سوسائٹی کے لئے ناسور بن جاتے ہیں۔پھر وہ ناسور پھیلتے ہیں اور ان کے دکھ دور دور تک محسوس ہوتے ہیں۔ہم نے تو تمام دنیا کے سامنے اسلام کے اعلیٰ معاشرے کے نمونے پیش کرنے ہیں۔ہم تعلیم کے میدان میں خواہ کتنی بھی ترقی کر جائیں ، اسلام کے احکامات کے فلسفے سے متعلق کتنی ہی دلنشین تقریریں کیوں نہ کریں ، جب تک ہمارے قول کی تائید میں ہمارا عمل ایک نمونہ پیش نہ کر رہا ہو دنیا پر ان باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔چنانچہ جب بھی مجھے باہر اسلامی تعلیم کے متعلق گفتگو کرنے کا موقعہ ملا بلا استثنا آخر پر ہمیشہ یہی سوال ہوا کرتا تھا کہ جو کچھ آپ نے بتایا ہے وہ سب کچھ ٹھیک ہے مگر اس کے عملی نمونے تو دکھا ئیں۔اگر چہ یہ تعلیم بہت پیاری ہے لیکن اگر یہ قابل عمل ہی نہیں تو ہمیں اس تعلیم کے متعلق کیا باتیں سناتے ہیں۔صرف باہر ہی نہیں بلکہ ابھی حالیہ سفر لاہور میں مختلف اہل فکر سے گفت و شنید کے دوران جب ایک گروہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعت احمدیہ کے نظریات سے متاثر ہوا تو ان میں سے ایک شخص نے یہی سوال کیا کہ آپ نے اسلام کے بارے میں جو تصورات پیش کئے ہیں وہ بہت خوشکن ہیں اور توجہ کو کھینچ رہے ہیں لیکن عملاً اس کی کوئی تصویر دنیا میں ہے بھی یا نہیں؟ اور اگر کروڑہا