خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 45 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 45

خطبات طاہر جلد ۲ 45 خطبه جمعه ۲۱ جنوری ۱۹۸۳ء گے جن کی وجہ سے آج جب کہ اسلام کے چہرے سے داغ دور کرنے کا وقت ہے کچھ لوگ نئے داغ اسلام کے چہرے پر لگا رہے ہیں۔بعض مردوں کی یہ بدقسمتی صرف پاکستان اور ہندوستان کی جماعتوں تک ہی محدود نہیں بلکہ دنیا کی دوسری جماعتوں سے بھی ایسی دردناک تکالیف کی شکایتیں ملتی ہیں اور جب تحقیق کی جاتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ بہت حد تک مرد کا قصور تھا۔چنانچہ میں نے اپنے دورے کے دوران ایک ملک میں ایک کمیشن مقرر کیا جو ان حالات کا جائزہ لے اور رپورٹ کرے کہ کیوں خانگی معاملات میں یہ تکلیف دہ صورتیں پیدا ہو رہی ہیں؟ تو اس کمیشن نے جو بڑے ذمہ دار آدمیوں پر مشتمل ہے، مجھے رپورٹ کی کہ ہمارے جائزے کے مطابق اکثر و بیشتر مرد کا قصور ہے۔مرد کے ان اقدامات کے نتیجے میں اگر عورت آزادی کی طرف مائل ہو یعنی اسلام سے باہر کی آزادی کی طرف اور ان ظالمانہ اقدامات کے خلاف اس رنگ میں بغاوت کرے کہ وہ بغاوت بالآخر اسلام کے خلاف بغاوت پر منتج ہو جائے تو یہ سارے مرد خدا کے حضور جوابدہ اور ذمہ دار ہوں گے۔تحقیق کے بعد جو واقعات معلوم ہوئے ہیں وہ تو ایک دردناک کتاب ہے اور یہ موقع ہی نہیں اور نہ وقت ہے کہ میں ان کا تفصیلی ذکر کر سکوں۔صرف ایک چھوٹی سی مثال دیتا ہوں تا کہ آپ کو اندازہ ہو کہ اس دنیا میں آج کے دور میں بھی مرد عورت کے خلاف کیسا سفاکی کا معاملہ کر رہا ہے۔بہت پرانی بات ہے جبکہ میں ربوہ میں قائد مجلس خدام الاحمدیہ ہوا کرتا تھا۔ایک دفعہ مجھے اطلاع ملی کہ ایک احمدی نوجوان جو فوج میں ملازم تھا اور چھٹی پر آیا ہوا تھا دریا کے کنارے جہاں دریا نے چھوٹی چھوٹی جھیلیں بنائی ہوتی ہیں نہاتے ڈوب گیا ہے اور تلاش کے باوجود اس کی لاش دستیاب نہیں ہو سکی۔چنانچہ میں بھی وہاں گیا اور لاش تلاش کرنے کی کوشش کی۔بالآخر وہ آدمی ایک چٹان کی تہ میں پھنسا ہوا نظر آیا۔چنانچہ میں نے اس کی بغل میں ہاتھ ڈال کر اس کی لاش کو وہاں سے باہر نکالا۔یہ واقعہ بڑا دردناک تھا لیکن اس واقعہ کی کوکھ سے بعض اور درد ناک باتوں نے جنم لینا تھا جو اب میرے سامنے آئیں۔اس شخص کی بیوہ نے بڑے دردناک اور تکلیف دہ حالات میں اپنی اس بچی کی پرورش کی جو یتیم رہ گئی تھی۔سکول میں ٹیچر ہوئی ، قربانیاں دیں، دکھ کا بڑا لمبا زمانہ نہایت صبر کے