خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 510
خطبات طاہر جلد ۲ 510 خطبه جمعه ۳۰ ستمبر ۱۹۸۳ء کے بارہ بج رہے تھے میں یوسٹن کے ریلوے اسٹیشن پر گاڑی کے انتظار میں بیٹھا ہوا تھا۔میں وہاں کسی کام کے لئے گیا ہوا تھا اس وقت فارغ ہو کر واپس گھر جا رہا تھا تو جس طرح دوسرے احمدیوں کو یہ خیال آتا ہے کہ ہم سال کا نیا دن نفل سے شروع کریں اسی طرح مجھے بھی یہ خیال آیا۔چنانچہ میں نے وہاں نفل پڑھنے شروع کر دیئے۔کچھ دیر کے بعد مجھے یہ احساس ہوا کہ میرے پاس ایک آدمی کھڑا رو رہا ہے اور رو بھی اس طرح رہا ہے جس طرح بچے ہچکیاں لے لے کر روتے ہیں۔میں اگر چہ اس حالت میں نماز پڑھتا رہا لیکن تھوڑی سی Disturbance ہوئی کہ یہ کیا کر رہا ہے۔جب میں نماز سے فارغ ہوا تو جب میں اٹھ کر کھڑا ہی ہوا تھا تو وہ دوڑ کر میرے ساتھ لپٹ گیا اور میرے ہاتھوں کو بوسہ دیا۔میں نے کہا کیا بات ہے، میں تو آپ کو جانتا نہیں۔اس نے کہا آپ نہیں مجھے جانتے لیکن میں آپ کو جان گیا ہوں۔میں نے کہا آپ کا کیا مطلب ہے۔اس نے کہا کہ سارا لندن آج نئے سال کے آغاز پر خدا کو بھلانے پر تلا ہوا ہے اور ایک آدمی مجھے ایسا نظر آ رہا ہے جو خدا کو یا در کھنے پر تلا ہوا ہے میں کیسے آپ کو نہ پہچانوں۔غرض اس چیز نے اس پر اتنا گہرا اثر کیا کہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے وہ بچوں کی طرح ہچکیاں لے لے کر رونے لگ گیا۔پس آپ کی اصل آزادی خدا کی یاد میں ہے۔دوسری ساری دنیا غلام ہے اپنے رسم و رواج کی ، شیطانیت کی ، جنسانیت کی اور اپنی ہوا و ہوس کی لیکن یہ آپ ہیں جنہوں نے خود بھی آزادی سے پھرنا ہے اور ان لوگوں کو بھی آزادی بخشنی ہے۔اگر آپ ان کے معاشرہ سے متاثر ہو گئے اور ان کے غلام بن گئے تو پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وہ کون نام لیوا ہو گا جو ان کو آزادی بخشے گا۔آپ ہی نمائندہ ہیں اس لئے عظمت کردار پیدا کریں۔اپنے اللہ سے تعلق جوڑمیں وہ آپ کے لئے پھر معجزے دکھائے گا۔پھر آپ کو یہ پوچھنا نہیں پڑے گا کہ معجزہ کیا ہوتا ہے۔پھر آپ لوگوں کو یہ بتا ئیں گے کہ معجزہ کیا ہوتا ہے اس لئے یہ جو مسجد کی تعمیر کے سلسلہ میں سنگ بنیا درکھنے کا دن ہے اس کو اپنے لئے فیصلہ کن دن بنائیں۔یہ عہد کریں کہ اب چاہے باہر سے کوئی مبلغ آئے یا نہ آئے آپ اسلام کے لئے مبلغ بنیں گے۔آپ نے ان لوگوں کی کایا پلٹنی ہے۔آپ نے ان کے معاشرہ میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کرنی ہیں۔آپ نے ان سے آزادرہ کر پھرنا ہے۔اپنی عورتوں کو سنبھالیں ، اپنی بچیوں کو سنبھالیں ، ان کے چہرے پر ان کی نظروں میں بعض دفعہ ایسی بے اعتنائی نظر آتی ہے کہ جس