خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 509 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 509

خطبات طاہر جلد ۲ 509 خطبه جمعه ۳۰ ستمبر ۱۹۸۳ء اس کے کہ اعلان ہو چکا تھا کہ جہاز پرواز کرنے والا ہے رجسٹر وغیرہ Pack کر کے جہاز کے عملہ کے لوگ روانہ ہو چکے تھے۔میں نے اس کو پیسے دیئے اور ٹکٹ لے لیا کیونکہ پاکستان میں اگر کوئی آدمی ( Internal Flight) اندرون ملک پروازوں میں جہاز Miss کرے تو اسے کافی جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے اس لئے وہ بے چارا گھبرایا ہوا تھا۔خیر میں کھڑا تھا کہ اتنے میں جہاز کے عملہ کا ایک آدمی دوڑتے ہوئے آیا اور کہا ایک سواری کم ہے کوئی مسافر پیچھے تو نہیں رہ گیا۔میں نے کہا میں ہوں اس نے میرا سامان پکڑا اور کہا یہ ساتھ ہی جائے گا کیونکہ اب الگ لوڈ کرنے کا وقت نہیں ہے۔چنانچہ سوٹ کیس ہاتھ میں پکڑا اور ہم دوڑتے دوڑتے جہاز میں سوار ہوئے اور روانہ ہو گئے۔اب یہ جو واقعہ ہے کوئی دنیا دار آدمی ہزار کوشش کرے، اس کو اتفاق ثابت کرنے کی لیکن جس پر گزرا ہو وہ اسے کیسے اتفاق سمجھ سکتا ہے اس کو سو فیصدی یقین ہے کہ ان سارے واقعات کی یہ ( Chain ) زنجیر جو ہے۔یہ اطاعت کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک انعام تھا۔اللہ تعالیٰ یہ بتانا چاہتا تھا کہ یہ ہوائی جہاز اور ان کے عملہ وغیرہ کی کوئی حیثیت نہیں تم اگر میرے غلام بنتے ہو تو یہ تمہارے غلام بن جائیں گے، تمہارے لئے حالات تبدیل کئے جائیں گے۔بظاہر یہ ایک چھوٹی سی بات تھی لیکن جس کے ساتھ یہ بات گزرے اس کی زندگی پر یہ بہت گہرا اثر ڈالتی ہے اتنا گہرا اثر کہ ہمیشہ کے لئے دل پر اللہ کا پیار اور اس کا احسان نقش ہو جاتا ہے۔پس میں آپ سے بھی یہ کہتا ہوں کہ آپ کیوں ان تجربوں میں سے نہیں گزرتے؟ جب تک آپ ان تجربوں میں سے نہیں گزرتے آپ اللہ کو نہیں پاسکتے۔اگر آپ اللہ سے تعلق پیدا کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو خدا تعالیٰ سے پیار اور محبت کا اتنا گہرا اور اتنا کامل اور تنا غیر متزلزل تعلق پیدا کرنا پڑے گا۔کہ دنیا کی کوئی صورت حال آپ کے ارادہ کو بدل نہ سکے۔آپ عزت کے ساتھ سراٹھا کر ہر جگہ گھو میں پھریں اور محسوس کریں کہ آپ آزاد ہیں اور یہ لوگ غلام ہیں۔ایک دفعہ انگلستان میں ایک بڑا دلچسپ واقعہ ہوا۔وہاں ہر سال یکم جنوری کولوگوں کی جو حالت ہوتی ہے وہ آپ نے سنی ہوگی۔رات بارہ بجتے ہیں اور بے حیائی کا ایک طوفان سڑکوں پر ائد آتا ہے۔اس وقت ہر شخص کو آزادی ہوتی ہے وہ جس کو چاہے گلے لگائے اور پیار کرے خواہ وہ کتنا ہی گندا ہی کیوں نہ ہو اس کے منہ سے شراب کی بدبو آتی ہو یا اور کئی قسم کی غلاظتیں گی ہوں۔خیر رات