خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 508 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 508

خطبات طاہر جلد ۲ 508 خطبه جمعه ۳۰ ستمبر ۱۹۸۳ء صاحب بھی تھے اور ہمارے ایک اور بھائی کرنل مرزا داؤ د احمد صاحب جن کے ہاں ہم ٹھہرے ہوئے تھے انہوں نے فون پر پتہ کیا تو بتایا یہ گیا کہ اس دن کی ساری ( Flights) پروازیں Booked ہیں صبح کی Flights کا تو سوال ہی نہیں اور جب انہوں نے پوچھا کہ Chance پر کوئی جگہ مل سکتی ہے یعنی اتفاقاً کچھ لوگ رہ جاتے ہیں تو اس کا جواب انہوں نے یہ دیا کہ اتنا Rush ہے کہ Chance پر بھی سینکڑوں آدمی بیٹھے ہوئے ہیں۔اس جلوس کے آخر پر اگر ہم ان کا نام لکھ لیں تو پھر بھی شائد کئی دن کے بعد باری آئے۔یہ اس وقت Rush کی حالت تھی تو انہوں نے کہا پھر تو ر بوہ جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔تم چند دن ٹھہر و تمہاری سیٹ بک کروا دیتے ہیں۔جب باری آ گئی چلے جانا۔میں نے ان سے کہا کہ آپ کی یہ سوچ ہو گی ٹھیک ہے اور اس پر میں اعتراض نہیں کر سکتا لیکن مجھے حضرت صاحب کا حکم ہے کہ تم نے کل ضرور پہنچنا ہے اس لئے میں نے تو ضرور جانا ہے۔انہوں نے کہا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تم جاہی نہیں سکتے۔میں نے کہا سوال بیشک نہ پیدا ہوتا ہو میں نے ائیر پورٹ پر جانا ہے کوشش کرنی ہے پھر اللہ کی جو مرضی ،مگر یہاں میں چین سے نہیں بیٹھ سکتا کہ خدا تعالیٰ کا خلیفہ مجھے حکم دے کہ تم پہنچو اور میں آپ کے ساتھ بیٹھا آرام سے انتظار کرتا رہوں کہ جو کوشش کرنی تھی کوئی Chance ہے وہ بھی خدا کے ہاتھ میں ہے کوشش تو کرنی چاہئے۔خیر میں جب صبح روانہ ہوا تو سب نے مذاق سے ہنس کر کہا کہ ہم تمہارا ناشتہ پر انتظار کریں گے واپس آ کر ناشتہ ہمارے ساتھ کرنا۔میں ائیر پورٹ پر گیا انہوں نے کہا سیٹ ملنے کا کوئی سوال ہی نہیں۔میں نے کہا بہت اچھا نہیں ہے تو میں یہاں کھڑا رہتا ہوں۔میں نے کہا ?Chance انہوں نے کہا Chance کا بھی کوئی سوال نہیں۔میں نے کہا کوئی حرج نہیں میں انتظار کرتا ہوں دیکھتا ہوں کیا ہوتا ہے۔چنانچہ میں ابھی انتظار کر رہا تھا کہ اتنے میں وہ جو رجسٹر ہوتا ہے وہ انہوں نے بند کیا اور Call دی کہ جہاز چلنے والا ہے مسافر سوار ہونے کے لئے چلے جائیں۔چنانچہ رجسٹر Pack کر کے روانہ ہو گیا لیکن اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ایسا یقین ڈال دیا تھا کہ میں نے جانا ہی جانا ہے، میں وہیں کھڑا رہا ایک نوجوان لڑکا میرے پاس دوڑتے ہوئے آیا اور کہنے لگا آپ کو لاہور کے لئے ٹکٹ چاہئے؟ میں نے کہا ہاں مجھے چاہئے ، کہنے لگا میرے نام کا ہے آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں میرے نام پر سفر کرنے میں۔میں نے کہا نہیں مجھے کوئی اعتراض نہیں۔میں نے اسی وقت اس کو پیسے دیئے باوجود