خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 507 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 507

خطبات طاہر جلد ۲ 507 خطبه جمعه ۳۰ ستمبر ۱۹۸۳ء چلانے کے لئے جو بھی خدا کی طرف سے مقرر ہوتا ہے اس کی اطاعت بھی خدا کی اطاعت بن جاتی ہے۔اس کے مقرر کردہ عہدیداران کی اطاعت بھی خدا کی اطاعت بن جاتی ہے اور یہ مضمون آگے تک چلتا ہے یہاں تک کہ بعض لوگ تکبر سے یہ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ یہ تو چھوٹا آدمی ہے ہم اس کی بات نہیں مانیں گے ہاں خلیفہ وقت کی مان لیں گے، اس کی بیعت کی ہے۔حالانکہ وہ اس روح کو سمجھتے نہیں ہیں کہ خلیفہ وقت کی پھر کیوں مانو گے وہ بھی تو ایک انسان اور حقیر انسان ہے پھر تم براہ راست خدا سے کہو کہ وہ تم سے کلام کیا کرے اور تمہیں براہ راست ہدایت دیا کرے۔اگر تمہارے اندر اتنا تکبر ہے، تمہاری اتنی شان ہے تو پھر خلیفہ وقت کے نمائندہ کی بات بھی نہ مانو بلکہ اس کی بھی نہ مانو ، پھر نبی کی کیوں مانو گے وہ بھی تو ایک انسان ہے، پھر تو براہ راست اللہ سے مطالبہ ہونا چاہئے کہ اے خدا! تو خود بتا کہ کیا کرنا ہے؟ تب ہم مانیں گے ورنہ کسی انسان کی نہیں مانیں گے اور اگر یہ حرکتیں کریں گے تو اسی کا نام قرآن کریم شیطانیت اور ابلیسیت رکھتا ہے اس لئے جس اطاعت کے بدلہ پھل ملتا ہے وہ اطاعت کوئی معمولی چیز نہیں ہے اس کے اندر بڑی گہری روح ہے۔اس میں تو انسان سب سے پہلے اپنے نفس سے آزاد ہوتا ہے تب جا کر اطاعت کرتا ہے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ نفس کا غلام ہو اور اللہ کا مطیع ہو۔یہ دونوں چیزیں آپس میں ٹکرا جاتی ہیں۔چنانچہ میں آپ کو جو مثال دے رہا تھا کہ اطاعت آپ کو آزاد کر دیتی ہے دوسری چیزوں سے اور دوسری غلامیاں آپ کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت نہیں کرنے دیتیں۔یہ اس کی مثال ہے سب سے پہلے نفس کو پاک کرنا پڑے گا اپنے ضمیر کو آزاد کرنا پڑے گا کہ میں صرف اور صرف خدا کے سامنے جھکتا ہوں اور خدا کی نمائندگی میں اگر مجھ سے بہت ہی ادنی آدمی بھی مجھ پر حاکم مقرر ہو تو میں اس کے سامنے بھی جھکوں گا۔یہ ہے اسلامی اطاعت کی روح۔اس کی اگر تربیت مل جائے تو اس اطاعت کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ بعض دفعہ انسان کو بہت سے معجزات دکھاتا ہے اور یہ بتانے کے لئے اور یقین پیدا کرنے کے لئے کہ میری خاطر تم نے کیا ہے میں تمہاری خاطر دنیا کوتمہارا غلام بناؤں گا میں اس کی ایک چھوٹی سی مثال پیش کرتا ہوں۔ایک دفعہ حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایک وفد مشرقی پاکستان بھجوایا جس میں میں بھی شامل تھا۔وہاں سے واپسی پر مجھے کراچی میں ربوہ سے حضور کا فون پر یہ پیغام موصول ہوا کہ پہلی فلائیٹ پر یہاں پہنچ جاؤ۔رپورٹ کا انتظار تھا۔ہمارے بھائی صاحبزادہ حضرت مرز امظفراحمد