خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 504
خطبات طاہر جلد ۲ 504 خطبه جمعه ۳۰ ستمبر ۱۹۸۳ء کو تو سر اونچا کر کے ان کو اپنی طرف بلانا ہے کہ ادھر آؤ ہم تمہیں تہذیب سکھاتے ہیں ہم غلط راستے پر چل رہے ہو، تمہاری راہیں غلط ہیں، تم دنیا کے کیڑے بنتے چلے جارہے ہو تمہیں اس کا کچھ فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔اب ظاہر ہے اگر اس کی بجائے آپ خود ہی ان سے متاثر ہو جائیں ،ان سے شرمانے لگ جائیں اور یہ خیال اپنے اوپر غالب کر لیں کہ دنیا ہمارے متعلق کیا کہے گی تو پھر تو آپ دنیا کا کوئی کام نہیں کر سکیں گے، اس لئے میں احباب جماعت سے یہ کہتا ہوں کہ وہ اپنے اندر احساس برتری پیدا کریں اور اس حقیقت کو کبھی فراموش نہ کریں کہ اسلام کی جو آزادی ہے وہ دراصل اللہ کی غلامی میں ہے۔یہ ایک ایسا لفظ ہے جو آزادی کے تصور کا خلاصہ پیش کرتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ آپ تفصیلی جائزہ لے کر دیکھ لیں اس سے بہتر تعریف اور کوئی نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم میری غلامی اختیار کرو تو تمام جھوٹے خداؤں سے تم آزاد ہو جاؤ گے۔یہ غلامی تمہیں ہر دوسرے جذ بہ اور ہر دوسرے نظریہ سے آزادی عطا کرے گی جب کہ خدا کی غلامی سے نکلنا نام ہے ہر دوسری چیز کی غلامی کا۔یہ ہیں وہ دو نظریات جن کی آپس میں جنگ جاری ہے۔میں نے آپ کو اس کے متعلق مختصر آبتایا ہے ورنہ گھنٹوں اس کی مثالیں دی جاسکتی ہیں کہ کس طرح خدا کی اطاعت کتنی ہی قسموں کی غلامیوں سے آزاد کرتی ہے اور کس طرح اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکلنا انسان کو دنیا کا غلام در غلام بناتا چلا جاتا ہے۔وہ رسموں کا غلام بن جاتا ہے، معاشرہ کا غلام بن جاتا ہے، پیٹ کا غلام بن جاتا ہے، نفسانیت کا غلام بن جاتا ہے۔غرضیکہ غلامی کے تصور کی کوئی ایسی بھیانک چیز نہیں ہے جو اس میں نہ پائی جاتی ہو، اس لئے صرف نام رکھ لینا تو آزادی نہیں کہلاتی اس میں کوئی حقیقت ہونی چاہئے۔اس وقت آپ کو دنیا میں جو آزاد قو میں نظر آ رہی ہیں وہ صرف خدا اور خدا کے تصور سے آزاد ہوئی ہیں۔یہی ایک ”آزادی“ ہے جس نے ان کو دوسری چیزوں کا غلام بنا دیا ہے اور اس غلامی میں وہ دن بدن زیادہ جکڑی جارہی ہیں اس لئے ضروری ہے کہ جن لوگوں نے ان کو آزاد کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے وہ پہلے خود اپنی آزادی کی فکر کریں۔اگر خدانخواستہ وہ خود ہی اپنے ہاتھوں میں رسم و رواج کی زنجیر پہن لیں گے اور ان کے پاؤں میں دنیاوی آلائشوں کی بیٹیاں چلی جائیں گی تو ان قوموں کو کس طرح زندہ کریں گے اس لئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت میں داخل ہوں اور اس سے پیار کریں اور اس سے سچا تعلق