خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 503 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 503

خطبات طاہر جلد ۲ 503 خطبه جمعه ۳۰ ستمبر ۱۹۸۳ء آزادی سے یہ کیا ہے وہ غلام نہیں تھے۔ان کی آزادی نے ایک غلط راستہ اختیار کر لیا۔انہوں نے آزادی کا مطلب یہ سمجھا کہ اب ہم آزاد ہیں دنیا جہان کی ہر ہیئت اختیار کرنے پر اور ہر گندگی اختیار کرنے پر اور ان کی آزادی جب اس راستے پر چلی تو غلام لوگوں نے ان کی پیروی ان راستوں پر بھی شروع کر دی۔پس حقیقت یہ ہے کہ دو نظریات کی جنگ ہے اس کو سمجھنا پڑے گا۔یا وہ رعب ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو عطا فرمایا اور آپ کو ایک ایسا معاشرہ بخشا جو دنیا کے رعب سے بے نیاز کر دیتا ہے اور یا وہ دنیا کا رعب ہے جو جہاں چاہے گا آپ کو لئے پھرے گا، کوئی اس میں مقام نہیں ہے، کوئی اس کی منزل نہیں ہے، کوئی رخ معین نہیں ہے، جس طرف وہ آزاد قو میں اپنے دماغ کے پھرنے کے نتیجہ میں پھر جانے کا فیصلہ کریں گی آپ لوگ ان کے پیچھے پیچھے پھریں گے اور اس وقت وہ معاشرہ ایسی گندگی میں داخل ہو چکا ہے کہ سوائے دکھوں کے اس کا اور کوئی انجام نہیں رہا۔ان قوموں میں اندرونی طور پر بڑی تیزی سے یہ احساس پیدا ہو گیا ہے کہ ہماری کوئی زندگی نہیں۔لذتوں کی تلاش ان کو ایسی بھیانک جگہوں پر لے جا چکی ہے کہ وہاں لذتوں کی بجائے گندگی ہے اور اس کے سوا اور کچھ نظر نہیں آتا۔مغربی قوموں نے اس آزادی کے نتیجہ میں لذت یابی کے ایسے ایسے خوفناک طریق سیکھے ہیں کہ انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔مثلاً ایک Sadism ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک جانوروں کی طرح کسی کو مارو نہیں اور تقریباً ادھ موانہ کر دو اس وقت تک نہ جنسی لذت اس میں پیدا ہوتی ) ہے اور نہ اس میں پیدا ہو سکتی ہے۔اب لذت یابی کا ایک یہ تصور ہے۔کچھ دیر Sadism پر رہے اب اس نے ایک اور شکل اختیار کر لی ہے کہ جب تک چھوٹے بچوں کو ہوس کا نشانہ نہ بناؤ اس وقت تک تمہیں کوئی جنسی لذت حاصل نہیں ہوگی۔چنانچہ امریکہ کے موجودہ اعداد و شمار کے مطابق وہاں کی آبادی کے ۳۰ فیصد لوگ بچوں پر ظلم کرنے کی طرف مائل ہورہے ہیں اور جو بچے ان کے مظالم کا شکار ہوتے ہیں وہ ہمیشہ کے لئے زندگی کی لذت کھو بیٹھتے ہیں چنانچہ اس کے نتیجہ میں ان کے پاگل خانے بھر رہے ہیں۔اعصابی مریض دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں، جرم بڑھتا جا رہا ہے لیکن اندھی تقلید کرنے والے اس خیال سے کہ یہ ماڈرن قو میں ہیں ان کے پیچھے پیچھے بھاگے چلے جارہے ہیں لیکن جماعت احمدیہ کے افراد