خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 502
خطبات طاہر جلد ۲ 502 خطبه جمعه ۳۰ ستمبر ۱۹۸۳ء نے ان کو ان چیزوں سے بے نیاز کر دیا تھا۔وہ انگلستان بھی پہنچے تو وہاں بھی آزاد مردوں کی طرح پہنچے۔حقیقت یہ ہے کہ نقال قو میں دراصل زندہ رہا ہی نہیں کرتیں ان کی زندگی کی حقیقت کوئی نہیں یوں ہی دکھاوا ہے اور آزاد قو میں دنیا کی چیزوں اور اس کے ماحول سے بے نیاز ہو کر زندہ رہا کرتی ہیں۔پس وہ رعب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے الہام میں بیان کیا تھا وہ آپ کے اصحاب کو عطا ہوا تھا۔ان سے لوگ راہیں پکڑتے تھے وہ لوگوں کی راہیں نہیں پکڑا کرتے تھے۔جس پر دنیا کا رعب آجائے اس کا نقشہ الٹ جاتا ہے۔چنانچہ یہ باتیں جن کے متعلق پسماندہ قو میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتیں کہ ہم یہ طرز اختیار کر سکتے ہیں لیکن جب وہ لوگ جن کا ان پر رعب ہے وہ طرزیں اختیار کرتے ہیں تو پسماندہ قومیں ان کے رنگ میں رنگین ہو جاتی ہیں مثلاً ایک زمانہ تھا جب ہمارے معاشرہ میں ٹنڈ کروانا یعنی استرے سے اچھی طرح سرمنڈوا دینا ایک بہت ہی بے ہودہ چیز سمجھا جاتا تھا اور جب قدامت پرست ماں باپ بعض دفعہ زبردستی اپنے بچوں کے سروں پر استرے پھر وادیا کرتے تھے تو بچے رویا کرتے تھے اور شرم کے مارے رومال باندھ کر پھرتے تھے اس لئے کہ ان کا دل کہتا تھا کہ ایک بے ہودہ چیز ہے لیکن جب آزاد قوموں میں سے بعض نے اپنے سرمونڈے اور ٹنڈ کروا کر باہر نکلے تو یہی لوگ جو پہلے شرمایا کرتے تھے انہوں نے ان کی پیروی کرنی شروع کر دی اور اپنے معاشرہ میں اسی طرح سرمنڈوا کر پھرنے لگے کہ اب یہ فخر کی بات ہے۔ایک طرف ایک آزاد قوم ہے جس کا رعب ہے۔دوسری طرف ایک غلام ذہنیت ہے جو اس رعب کے تابع ہے اور چپ کر کے اسے اختیار کرتی چلی جاتی ہے۔کسی زمانہ میں کوئی آدمی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ حلیہ بنا کر بتیز (Hippies) کی طرح کوئی انسان اپنی سوسائٹی میں پھرے بلکہ جس زمانہ میں انگریز قوم ایک خاص لباس پر غیر معمولی توجہ دیا کرتی تھی۔یعنی اکڑے ہوئے کالر اور خاص قسم کی ٹائیاں اور خاص قسم کے میٹس (Hats)۔تو یہ وہ لوگ ہیں جو اس زمانہ میں اس سے کم لباس کو جہالت سمجھتے تھے اور اپنی قوم کو حقارت سے دیکھا کرتے تھے اور کہتے تھے بھلا یہ بھی کوئی لوگ ہیں جو دنیا میں بس رہے ہیں اور شلواریں پہنی ہوئی ہیں بیوقوفوں کی طرح ، اور چونے پہنے ہوئے ہیں اور احمقانہ زندگی بسر کر رہے ہیں۔پگڑی کا تو تصور بھی نہیں کر سکتے تھے لیکن جب مغربی قوموں نے یہ باتیں شروع کیں تو انہوں نے حد سے زیادہ بے ہودہ اور لغو لباس اختیار کر لیا اور یہ ان کے لئے فخر کا نشان بن گیا۔انہوں نے