خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 44
خطبات طاہر جلد ۲ 44 خطبه جمعه ۲۱ جنوری ۱۹۸۳ء ان کے خلاف پیدا ہو تو وہ گویا ان کو مارنے کا بھی حق رکھتے ہیں۔ایسی بہت سی مثالیں سامنے آکر دل کو انتہائی تکلیف پہنچتی ہے۔ابھی حال ہی میں لاہور میں مستورات کی ایک مجلس سوال و جواب منعقد ہوئی جس میں انہیں موقع دیا گیا کہ وہ عورتوں سے متعلق مسائل وغیرہ پوچھیں۔ایک خاتون نے سوال کیا کہ کیا عورتیں مردوں کی جوتیوں کے طور پر پیدا کی گئی ہیں؟ اس خاتون کے سوال میں بڑا دردتھا۔مجھے بہت تکلیف پہنچی کہ جو اس نے نہیں کہا وہ بھی اس سوال کے پس منظر سے ظاہر تھا۔اس کو میں نے کہا کہ مرد عورتوں کی جوتیوں کے نیچے ہیں اس معنی میں کہ اللہ تعالیٰ نے ماں کے قدموں تلے جنت رکھ دی ہے۔اس لئے تم نے جو سمجھا غلط سمجھا۔لیکن میں جانتا ہوں کہ تم ایسا کیوں کہہ رہی ہو؟ دنیا میں کچھ ایسے بد بخت بھی ہوتے ہیں جو ماؤں کے قدموں سے جنت کی بجائے جہنم لیتے ہیں اور بجائے اس کے کہ عورت کے حقوق کا خیال رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کریں وہ نہ صرف یہ کہ خود ظالم بنتے ہیں بلکہ دنیا کے سامنے اسلام کو بھی ایک ظالم مذہب کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ان بد مثالوں نے اس کثرت کے ساتھ اسلام کی بدنامی کے سامان مہیا کئے ہیں کہ باہر کی دنیا یہ جھتی ہے کہ اسلامی تہذیب محض مرد کی خدائی اور حکمرانی کا نام ہے اور اسلامی تہذیب نام ہے عورت کو انتہائی ذلت کے ساتھ زندگی پر مجبور کرنے کا۔غیر مسلم، ”اسلام“ نام سمجھتے ہیں زنجیروں کا، رسم ورواج کی زنجیروں کا اور ظلم و تشدد کی زنجیروں کا جن میں مسلمان عورت باندھی جاتی ہے اور مرد اس پر راج کرتا ہے۔یہ تصور آخر اہل مغرب کے دل میں کیوں پیدا ہوا؟ یہ درست ہے کہ بہت حد تک اسلام کے تاریک زمانوں کی تاریخ اس تصور کو پیدا کرنے کی ذمہ دار ہے لیکن وہ تاریک زمانے تو چلے گئے اب تو روشنی کا دور آگیا۔اب تو اسلام کی از سرنو عظمتوں کی خاطر، اسکی بلندی کی خاطر اور اس کی رفعتوں کی خاطر احمدیت کا سورج طلوع ہوا ہے۔پس مذہبی نقطہ نگاہ سے بھی اندھیروں کے دور ختم ہوئے اور دنیا کے نقطۂ نگاہ سے بھی زمانہ ایسے دور میں داخل ہو چکا ہے کہ اس قسم کے خیالات قصہ پارینہ بن رہے ہیں اور ہر جگہ عورت بیدار ہورہی ہے اور اپنے حقوق کا مطالبہ کر رہی ہے۔پس اس دور میں بھی اگر ظلم وتشدد کی ایسی مثالیں نظر آئیں تو وہ لوگ بہت ہی بدقسمت ہوں