خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 493
خطبات طاہر جلد ۲ 493 خطبه جمعه ۲۳/ ستمبر ۱۹۸۳ء آپ اپنی سوسائٹی کو موحد سوسائٹی نہیں بناتے اور ایک بدن کی طرح یکجان نہیں بن جاتے اور ہر احمدی کا دکھ سب کا دکھ نہیں بن جاتا ، ہر احمدی کی خوشی سب کی خوشی نہیں بن جاتی اس وقت تک معاشرہ مجموعی طور پر ترقی نہیں کر سکتا اس لئے کوئی ایسا فعل نہ کریں جو اس تو حید کوتوڑنے والا اور اس بیگانگت کی روح کو پارہ پارہ کرنے والا ہو۔جب آپ اپنے اندر یہ خوبیاں پیدا کر لیں گے تو پھر آپ موحد بن جائیں گے۔جو قوم موحد بن جاتی ہے اس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے بے شمار برکتیں نصیب ہوتی ہیں اور دنیا میں عظیم الشان ترقی کرتی ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اس کو آگے بڑھنے سے روک نہیں سکتی۔پس جتنے آپ تھوڑے ہیں، جتنے آپ کمزور ہیں، اتنے ہی زیادہ توحید کے ساتھ چمٹنے کی ضرورت ہے۔آپ کی ساری طاقت کا راز یہ ہے کہ آپ ایک دوسرے کے ساتھ یکجان ہو جائیں۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے جو توحید قائم فرمائی اس کا نقشہ قرآن کریم نے یہ بیان فرمایا مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ وَالَّذِينَ مَعَةَ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ (الفتح ۳۰) کہ دیکھومحمد مصطفی ﷺ اور آپ کے ماننے والوں کی کیا کا یا بیٹی ہے یعنی رسول اللہ ﷺ نے اپنے عمل سے ان کو کیسا تبدیل کر دیا۔أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ یہ آپس میں بے حد محبت کرنے والے ہیں اور جتنی آپس میں محبت کرتے ہیں اتنی ہی غیروں کے مقابلہ میں سختی اختیار کرتے چلے جاتے ہیں۔یہ ترقی کرنے کا راز ہے اس کے اندر حکمت کا ایک گہرا اور انمول موتی پوشیدہ ہے۔ہمیشہ وہ قو میں غیروں پر سخت ہوتی ہیں جو اندرونی طور پر ایک دوسرے سے محبت کیا کرتی ہیں۔ان میں غیر راہ نہیں پاسکتا، ان کو کمزور نہیں کر سکتا، ان کے اندر کسی قسم کا رخنہ نہیں ڈال سکتا۔جو قو میں آپس میں ایک دوسرے میں رخنہ ڈالتی پھرتی ہیں وہ غیروں کی خوراک بن جایا کرتی ہیں۔غیران میں داخل ہو جاتے ہیں۔پس اگر آپ اپنوں کے لئے نرم ہیں تو لازما غیروں کے لئے سخت ہو جائیں گے۔اگر اپنوں کے لئے سخت ہیں تو لازماً غیروں کے لئے نرم ہو جائیں گے۔وہاں آپ کی محبتیں پھیل جائیں گی اور کسی قوم کو تباہ کرنا ہو تو اس سے زیادہ خطرناک زہر اور کوئی نہیں ہے۔جو اس کے اندر داخل کر دیا جائے۔پس آپ یا درکھیں کہ بڑی محنت اور کوشش کے ساتھ احمدیت کی حفاظت کریں۔تیرہ سوسال کے بعد اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو پھر آنحضرت ﷺ کا سچا نائب عطا فرمایا ہے اور دین کو زندہ کرنے