خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 492 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 492

خطبات طاہر جلد ۲ 492 خطبه جمعه ۲۳ / ستمبر ۱۹۸۳ء عورتوں میں زیادہ پائی جاتی ہیں وہ اپنی بہنوں کی غیبت کرتی ہیں اور ان کی برائیاں بیان کرتی ہیں۔اب ہم جو باہر سے آئے ہیں کیا ضرورت تھی ہمیں یہ بتانے کی کہ فلاں عورت میں یہ نقص ہے یا فلاں بھائی میں یہ نقص ہے پر دو پوشی کرنی چاہیئے تھی چنانچہ اس کے آگے اسلام پر دہپوشی کا مضمون شروع کر دیتا ہے۔آنحضرت ﷺ نے نصیحت فرمائی کہ اگر تم دوسری باتوں سے باز نہیں آتے تو کم از کم ایک بات یاد رکھو کہ تمہارے اندر بھی نقص ہیں۔اگر تم اپنے بھائی کی پر دو پوشی نہیں کرو گے تو تمہارا خدا تمہاری پردہ پوشی نہیں کرے گا وہ بھی تو تمہارے عیوب ڈھانکے ہوئے ہے۔(ابو داؤد کتاب الادب باب فی الغیبة ) اگر خدا بھی یہی کام شروع کرے جو گندی سوسائٹی کے لوگ کرتے ہیں کہ کسی کی برائی دیکھی اور آگے اس کا اشتہار دے دیا، کسی سے بری بات سنی تو آگے چلا دی تو اللہ تعالیٰ کی تو آپ کے سب عیبوں پر نظر ہے آپ رات کی تاریکی میں چھپ کر چھوٹے سے چھوٹا گناہ کریں، اللہ تعالیٰ اس کو بھی جانتا ہے۔کسی کے متعلق دل میں میل آ جائے خدا اس کو بھی جان رہا ہوتا ہے اور اگر خدا آپ سے بھی وہی سلوک شروع کر دے تو آپ کے دل میں کسی کی برائی آئے اور خدا تعالیٰ یہ بتادے کہ دیکھو تمہارے متعلق یہ سوچتا ہے آپ کو خدا نے کتنے پردوں میں رکھا ہوا ہے۔آپ کی سوچ آپ کی چیز ہے آپ جو مرضی سوچ جائیں ، یہ ہے ستاری خدا تعالیٰ کی دوسرے کو پتا نہیں لگتا۔دیواریں آپ کو راستہ روک لیتی ہیں، کپڑے آپ کی برائیاں روک لیتے ہیں، آپ کے بدن کے عیب چھپالیتے ہیں۔خدا اتناستار ہو اور اپنی مخلوق سے رحم کرنے والا اور ہر برائی پر پردہ ڈالنے کے اس نے انتظام کئے ہوں اور وہ کہے کہ میری مخلوق سے یہ سلوک کرو جو میں نے تم سے کیا ہے اور آپ وہ نہ کریں آپ اس کے پردے پھاڑنے پر لگ جائیں اور دوسروں کی برائیاں تلاش کرنے پر لگ جائیں اس کی برائیوں کے اشتہار دینے پر لگ جائیں تو بتائیے کہ پھر آپ کا کیا حق ہے کہ ستار خدا کی رحمت کے تابع رہیں۔اللہ تعالیٰ پھر ایسی قوموں سے رحمت چھین لیا کرتا ہے۔وہ خود پردے پھاڑ کر انتظام کر دیا کرتا ہے۔وہ پھر ان کی برائیاں ظاہر کرنی شروع کر دیتا ہے۔پس اسلامی نظام کو سمجھیں اور اس بات کو خوب سمجھ لیجیئے کہ آپ جب تک موحد نہیں بنیں گے اور اس دنیا میں بھی ایک موحد سوسائٹی کو پیدا نہیں کرتے اس وقت تک فرضی تو حید کوئی چیز نہیں۔تو حید وہ ہے جو عمل کی دنیا میں نظر آرہی ہو اور خدا نے آپ کو اس کے نمونے دے دیئے ہیں۔اس کے بعد بھی اگر