خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 490 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 490

خطبات طاہر جلد ۲ 490 خطبه جمعه ۲۳ ستمبر ۱۹۸۳ء کی روشنی میں تنہا ہوتے چلے جاتے ہیں اور صرف اس وقت تک اکھٹے ہوتے ہیں جب کسی کی برائی کرتے ہیں ورنہ ہر ایسی عورت جو غیبت میں مبتلا ہے وہ عملاً اپنی سوسائٹی سے کٹ کر الگ ہوتی چلی جاتی ہے اس کی نہ کوئی عزت باقی رہتی ہے اور نہ وقار باقی رہتا ہے، نہ اس کی بات میں کوئی حسن رہتا ہے کیونکہ وہ کسی کی برائی بیان کرنے کے سوا اور کچھ جانتی ہی نہیں ۔ یہی حال ان مردوں کا ہے۔ عورتوں سے غیبت شروع ہوتی ہے پھر مردوں میں داخل ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ وہ گھروں میں بیٹھ کر باتیں سنتے ہیں اور لذت پاتے ہیں اور پھر گھروں میں دوسرے مردوں کے خلاف آہستہ آہستہ نفرتیں پیدا ہورہی ہوتی ہیں۔ پس یہ ایک بہت ہی خطرناک بیماری ہے ۔ آنحضرت ﷺ نے اس بیماری کی روک تھام کے طریق بھی بتائے ہیں۔ فرمایا ایک تو غیبت ہو رہی ہوتی ہے پھر اگلا قدم اٹھتا ہے جو اس سے بھی زیادہ خطر ناک بن جاتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ ایک نے دوسرے کی برائی کی اور جس کی برائی ہوئی تھی اس کو جا کر بتا دیا کہ دیکھو تمہارے متعلق یہ باتیں ہور ہیں تھیں۔ یعنی وہ جو ابھی تک فرضی قصہ تھا وہ اب حقیقت بن گیا کہ میرے خلاف کسی نے نقصان پہنچانے کے لئے بات کی ہے اور مجھے پتہ ہی نہیں ہے میں آرام سے بیٹھا ہوا ہوں لیکن دوسرے کا تیر اٹھا کر اس نے میرے سینے میں گھونپ دیا ہے۔ پھر غیبت کا اگلا قدم یہ ہے کہ ایک صاحب اٹھے اور اس کے خلاف بھی غیبت کرنے لگ گئے جس کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ غیبت کے معنی ہی یہ ہیں کہ کسی کی غیر حاضری میں اس کو نقصان پہنچانا ، اس کے خلاف باتیں کرنا۔ ے شخص کے پاس پہنچے اور کہا جناب آپ تو اس شخص کو بڑا اچھا سمجھتے ہیں وہ بڑا ذلیل آدمی ہے، آج وہ آپ کے خلاف باتیں کر رہا تھا اور یہ نہیں بتاتے کہ میں بھی ان باتوں میں شامل تھا۔ چنانچہ رسول کریم نے اس کا بہت پیارا نقشہ کھینچا ہے۔ آپ نے فرمایا اس کی ایسی مثال ہے جیسے کوئی شخص کسی کی طرف تیر پھینکے، تیرکمان سے چلائے وہ اسے نہ لگے۔ اس کے قدموں میں جا کر بیکار ہوکر گر جائے تو ایک دوسرا شخص کہے اس نے چلایا تو اس کی طرف تھا وہ وہاں سے اٹھائے اور اس کے سینے میں مار دے یہ کہتے ہوئے کہ تیر کو نشانے پر پہنچنا چاہئے ۔ تو وہ غیبت ایسے تیر کی طرح ہوتی ہے جو لگتا نہیں کیونکہ جو چیز نشانے پر نہیں لگے گی وہ دکھ بھی نہیں پہنچائے گی اور برائی بھی پیدا نہیں کر سکے گی ۔ غیبت کرنے والا صرف اپنے آپ کا نقصان کر رہا ہوتا ہے لیکن جو بات پہنچا دیتا ہے وہ اس کا بھی نقصان کرتا ہے جس کے خلاف غیبت کی گئی تھی اس کو تکلیف پہنچاتا ہے اور خود اس کا قاتل بن جاتا ہے۔ دوسرے علي