خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 483 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 483

خطبات طاہر جلد ۲ 483 خطبه جمعه ۲۳ ستمبر ۱۹۸۳ء قبول کر کے پھر تم زندگی پاؤ گے۔اب آپ دیکھئے جو آدمی ورزش کر رہا ہے اس کی ہر حرکت پر اس کی طاقت کم ہوتی ہے، اس کے اعضا کمزور پڑ رہے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر جو گرمی اور توانائی محفوظ کی ہوئی ہے وہ ان کو تو ڑ تو ڑ کر جلا رہا ہے اور اس کا کیا نتیجہ نکلنا چاہئے ؟ آپ کی عقل تو یہ کہے گی کہ وہ تو مصیبت میں مبتلا ہے اس کی جو پہلی طاقت تھی وہ بھی کھائی گی اس کے پاس تو کچھ بچنا نہیں چاہئے ، اس کے عضلات آہستہ آہستہ ضائع ہو جانے چاہئیں۔اور دوسرے آپ ایک موٹے آدمی کو لیٹے ہوئے دیکھیں تو کہیں گے دیکھو یہ عقل والا ہے اس نے مصیبت اختیار نہیں کی موت کے منہ میں چھلانگ نہیں لگائی اپنے آپ کو بچا کر رکھ رہا ہے اور نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ یہی آیت کچی ثابت ہوتی ہے جو قرآن کی آیت ہے اور جو بتا رہی ہے کہ تمہیں موت سے زندگی ملے گی۔نیک اعمال چاہتے ہو تو جد و جہد کرو اور اپنے آپ کو مشکل میں ڈالو۔وہ زمیندار جو اپنے دانے سنبھال کر رکھے ہوئے ہے اور محنت کر کے اس کو زمین میں نہیں ڈال رہا اس کے دانے کتنی دیر چلیں گے؟ سال سے اوپر دو مہینے چل جائیں گے ، چار مہینے چل جائیں گے۔بہت ہی فاقے کر کے گزارہ کرے تو سال او پر نکل جائے گا لیکن ایک زمیندار ہے جو جاتا ہے اور دانوں کو موت کے منہ میں پھینک دیتا ہے، خود بھی مصیبت میں پڑتا ہے زمین کھودتا ہے اور اس کے اندر ڈال دیتا ہے اور دفنا کر آجاتا ہے۔چنانچہ اسی موت سے ایک نئی زندگی پھوٹتی ہے اور یا درکھیں دانوں کی یقینی موت ہے ان کی شکل بدل چکی ہوتی ہے۔موت نام ہے اپنی ہیئت کو تبدیل کر دینے کا ، موت نام ہے اپنی ایک کیفیت کو ایک اور کیفیت میں بدل دینے کا اس کے سوا موت اور کوئی چیز نہیں ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہر جگہ تمہیں موت ہی میں سے زندگی ملے گی۔وہیں تمہارے لئے اللہ تعالیٰ نے ترقی کی راہیں کھولیں ہوئی ہیں اس لئے اس بیوقوفی میں مبتلا نہ ہونا کہ موت کا خدا کوئی اور ہے اور زندگی کا خدا کوئی اور ہے یہ صرف زندگی کا خدا ہے جو تمہارے لئے موت کا انتظام کر رہا ہے۔اگر موت نہ ہوتی تو انسانی زندگی ترقی نہیں کر سکتی تھی۔وہ جانور جو امیبیا (Amoebea) کی شکل میں معمولی کیڑوں کی شکل میں تمہیں نظر آتے ہیں یہ آگے بڑھ ہی نہیں سکتے تھے۔موت سے انہوں نے مقابلہ کیا تو ان کو نئی نئی طاقتیں نصیب ہوئیں۔اندھیروں میں ٹکریں ماریں تو ان کو روشنی