خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 481 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 481

خطبات طاہر جلد ۲ 481 خطبه جمعه ۲۳ ر ستمبر ۱۹۸۳ء ایک جدو جہد میں مبتلا ہے۔ایک طرف گناہ ہے ایک طرف نیکی ہے ، ایک طرف اندھیرا ہے ایک طرف روشنی ہے۔اس سوال کے حل کی تلاش میں بعض لوگوں نے ٹھوکر کھائی اور زرتشی مذہب کے بعد کے لوگوں نے یہ سمجھا کہ گویا دوخدا تھے، ایک اندھیرے کا خدا تھا اور ایک روشنی کا خدا، ایک نیکی کا خدا تھا اور ایک بدی کا خدا تھا اور ان دونوں کے درمیان ہمیشہ سے جدو جہد ہوتی چلی آئی ہے اور جاری رہے گی یہاں تک کہ ایسا وقت آئے گا کہ نیکی کا خدا ہدی کے خدا پر غالب آجائے گا اور اس کے بعد پھر دنیا امن کا منہ دیکھے گی اور ہر جگہ روشنی ہی روشنی پھیل جائے گی۔قرآن کریم نے اس عقیدہ کے پہلے حصہ کو لے کر اس کے دوسرے حصہ کی نفی فرمائی ہے۔فرماتا ہے اگر چہ نیکی اور بدی کا نظام تمہیں ملتا ہے، جد و جہد اور کشمکش کا نظام ملتا ہے لیکن یہ یادرکھنا کہ هُوَ الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیوۃ وہ ایک ہی خدا ہے جس نے زندگی بھی پیدا کی اور موت بھی پیدا کی ہے اور اس کے لئے دو الگ الگ خدا نہیں ہیں۔یہ بات کہنے کے بعد پھر فرماتا ہے کہ تم کائنات کو دیکھ لو تمہیں ایک ہی خدا کا وجود ملے گا، کہیں بھی دو خدا نظر نہیں آئیں گے۔اور بہت ہی لطیف مضمون ہے۔حقیقت میں اگر آپ غور کریں تو صرف زندگی ہی ہے موت کا کوئی وجود نہیں۔زندگی سے پیچھے ہٹ جانے کا نام موت ہے۔زندگی کی قوتوں کا آہستہ آہستہ کمزور پڑ جانا موت کی طرف لے جاتا ہے تو عملاً یہاں بھی تو حید ہی ہے اور اس مسئلہ کو قرآن کریم نے حل فرمایا ورنہ اس سے پہلے دنیا کے فلاسفر اور بڑے بڑے مذہبوں کے رہنما یہ سمجھنے لگے تھے کہ گویا الگ الگ خدا ہیں۔حضرت زرتشت نے جو تعلیم دی وہ تو خدا کی طرف سے تھی۔لوگوں نے ان کی اصطلاحوں کو سمجھنے میں غلطی کھائی لیکن ان کے علاوہ بھی بہت سے ایسے لوگ ہیں جنہوں نے قوت کے ہر سر چشمہ کو الگ الگ خدا کے طور پر سمجھ لیا۔سورج سے روشنی پائی تو اس کو ایک خدا بنالیا، چاند سے مدھم مدھم روشنی دیکھی اور اس میں گرمی نہیں تھی تو اس کو ایک الگ خدا بنالیا ، بادلوں سے پانی پایا تو اس کو ایک الگ خدا بنالیا، بجلی نے ان کو ڈرایا اور دھمکایا اور بعض دفعہ جلا بھی دیا تو اس کو ایک الگ خدا بنالیا ، سانپوں کو الگ بنایا، سمندر کو الگ بنایا ، ہواؤں کو الگ بنایا۔تو یہ انسانی تصورات تھے جو ہر سمت میں پھیل گئے تھے اور ہر چیز کو خدا بنانے والے تھے۔قرآن کو وہ پہلی کتاب ہے جس نے ان سارے تصورات کو سمیٹ کر یکجائی شکل میں پیش کیا اور بتایا کہ ان سب کا ایک خدا ہے اور اگر تم کائنات پر غور کرو تو بظاہر الگ الگ