خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 476
خطبات طاہر جلد ۲ 476 خطبه جمعه ۹ ستمبر ۱۹۸۳ء ہمالہ کی چوٹیاں سامنے کھڑی ہیں، اگر آپ رفعتوں والے خدا سے تعلق جوڑ لیں جو ایسی رفعتیں رکھتا ہے جن کی کوئی انتہا نہیں تو ہمالہ کی چوٹیاں کیڑوں کے گھروندوں سے بھی زیادہ چھوٹی نظر آنے لگیں گی۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام میں بعض دفعہ ایسی ہی شوکت نظر آتی ہے جب یوں معلوم ہوتا ہے کہ خدا آپ کی رگوں میں دوڑ رہا ہے۔آپ فرماتے ہیں: جو خدا کا ہے اسے للکار نا اچھا نہیں ہاتھ شیروں پر نہ ڈال اے رو بہ زار ونزار ( براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۳۱) اس لئے آپ خدا کے شیر بنیں اور وہ طاقت حاصل کریں جس کے بعد دنیا کی طاقتوں کو اس بات کی توفیق نہیں مل سکتی کہ وہ آپ پر ہاتھ ڈال سکیں۔آپ کسی بھی ملک کے باشندے ہوں آپ دیکھیں گے کہ آپ کو غیر معمولی طاقتیں عطا کرے گا اور یہ کہ آپ کے دشمنوں کا خدا دشمن بن جاتا ہے اور آپ کے دوستوں کا دوست بن جاتا ہے۔موسی" میں تو طاقت نہیں تھی کہ وہ فرعون کا سر نیچا کرے لیکن موسیٰ کے خدا میں طاقت تھی اور اس نے اس شان کے ساتھ فرعون کے تکبر کو توڑا ہے کہ آج تک تاریخ میں وہ عبرت کا نشان بنا ہوا ہے۔حضرت محمد مصطفی علے میں تو یہ طاقت نہیں تھی کہ کسری کی حکومت کو پارہ پارہ کر دے۔آپ کو تو کسری اس قدر کمزور دیکھ رہا تھا اور اتنا بے حقیقت سمجھ رہا تھا کہ اس نے اپنے ایک معمولی گورنر کو یہ حکم دیا کہ ایک سپاہی بھیج کر اسے پکڑ کر بلواؤ اور اس کو ہلاک کر دو۔جب آنحضرت ﷺ کی خدمت میں یمن کے گورنر کا وہ اینچی جو کسری کا نمائندہ تھا حاضر ہوا تو اکیلا تھا اس کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھے اور اس میں دراصل آنحضرت ﷺ کی حد سے زیادہ (نعوذ باللہ ) تذلیل کرنے کی کوشش کی گئی تھی کہ ہمیں تو تمہارے پاس کوئی ہتھیار بند سپاہی بھیجنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔تمہیں پیغام ملے گا اور تمہیں لازماً حاضر ہونا پڑے گا۔چنانچہ اینچی نے آکر یہی پیغام دیا کہ ہمارے شہنشاہ عالم کسری نے حکم دیا ہے ہمارے گورنر کو کہ تمہیں بلوائیں اس لئے میں پیغام دینے آیا ہوں کہ آپ ان کے دربار میں حاضر ہو جائیں۔آپ نے فرمایا تم اپنے شہنشاہ کے حکم کے پابند ہو میں اپنے شہنشاہ کے حکم کا پابند ہوں اور جب تک میں اللہ سے پوچھ نہ لوں اس وقت تک میں کوئی فیصلہ نہیں کروں گا۔پس رات آپ نے خدا کے حضور دعا کی۔ہم نہیں جانتے کہ وہ دعا کیا تھی اور کیسی گریہ وزاری تھی لیکن صبح