خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 471 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 471

خطبات طاہر جلد ۲ 471 خطبه جمعه ۹ ستمبر ۱۹۸۳ء مقصد رکھا گیا ہے، صرف طریق کار بتایا گیا ہے کہ اگر تم دنیا کو اپنی طرف کھینچنا چاہتے ہو تو اس کے لئے پہلے خدا کی طرف جاؤ اس کے بغیر تمہیں دنیا نہیں ملے گی ۔ یعنی اس الہام میں کسی ایسی صوفیانہ تعلیم کا ایسی ذکر نہیں ہے کہ دنیا سے قطع تعلق کر کے انسان صرف خدا کا ہو جائے اور بے عملی کی زندگی میں مبتلا ہو جائے اور سمجھے کہ اسی طرح میں نے سب کچھ حاصل کر لیا بلکہ مومن کے اس مقصد کو تسلیم کیا گیا ہے کہ وہ ایک مجاہد کی زندگی اختیار کرتا ہے اور بالآخر اس نے ساری دنیا کو اسلام کے لئے فتح کرنا ہے اور یہی اس کی زندگی کا مقصد ہے۔ اس الہام میں صرف طریق کا بتایا گیا ہے کہ خدا کی طرف گئے بغیر ، خدا کو اپنا بنائے بغیر اگر تم دنیا کے پیچھے بھاگتے رہو گے تو کبھی بھی دنیا تمہاری نہیں ہوگی ہاں یہ خطرہ ہے کہ تم نہ صرف یہ کہ خدا کے نہ رہو بلکہ دنیا کے بن کر رہ جاؤ ۔ پس اس الہام میں دراصل قرآن کریم کی ایک آیت کی طرف اشارہ ہے جس میں آنحضرت ﷺ کا عظیم الشان کردار بیان فرمایا گیا اور آپ کا صلى الله عروسه طریق تبلیغ واضح کیا گیا ہے۔ یعنی آپ جو مجاہد بنے اور تمام دنیا کو خدا کی طرف لانے کے لئے آپ نے ایک مہم شروع کی تو آپ نے پہلے کیا کیا تھا۔ وہ آیت یہ ہے دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ او ادنی (النجم : ۱۰۰۹) اور اسی مضمون کو خدا تعالیٰ نے ایک اور جگہ بھی کھول کر بیان کیا ہے لیکن پہلے میں اس حصہ کے متعلق بیان کر دینا چاہتا ہوں ۔ صلى الله عروسه اللہ تعالی فرماتا ہے کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ دنا اپنے رب کے قریب ہوئے اور قریب صلى الله ہوکر وہاں ٹھہرے نہیں رہے ۔ دو باتیں ہیں جو حضرت محمد مصطفی ﷺ کے کردار اور صفات حسنہ کی یہاں نمایاں طور پر بیان ہوئی ہیں ۔ اول خدا سے پیار کا راستہ پہلے اختیار کیا ہے اور خدا کے قریب ہوئے بغیر دنیا کی طرف متوجہ نہیں ہوئے پھر جب خدا کو پالیا تو خود غرضی نہیں دکھائی ، یہ نہیں سوچا کہ میرا مقصد پورا ہو گیا اب دنیا جائے جہنم میں جو بھی اس کے ساتھ ہوتا ہے ہوتا پھرے میں نے تو اپنے رب کو پالیا بلکہ معا اپنے بھائیوں کی طرف توجہ ہوئی فَتَدَلی پھر ان کی طرف جھکے یہ بتانے کے لئے کہ میں نے کتنی عظیم الشان دولت پائی ہے تم بھی اس میں شریک ہو جاؤ۔ اس مضمون کو مزید کھولتے ہوئے اللہ تعالیٰ سورۃ الضحیٰ میں بیان فرماتا ہے وَجَدَكَ ضَالَّا فَهَدَى وَوَجَدَكَ عَابِلًا فَاغْنَى (الضحی : ۹۰۸) اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفی علی کو اس حال میں پایا کہ خدا کی تلاش میں سرگرداں تھے۔ ضاد کا مطلب صلى الله