خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 453 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 453

خطبات طاہر جلد ۲ 453 خطبه جمعه ۲ ستمبر ۱۹۸۳ء إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ ( آل عمران : ۹۷) کہ وہ پہلا گھر جو خدا کی عبادت کی خاطر تمام بنی نوع انسان کے لئے بنایا گیا ۔ لِلنَّاسِ کے لفظ میں کوئی مذہبی تفریق نہیں رکھی گئی بلکہ خدا تعالیٰ نے ایسا فقرہ استعمال فرمایا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ گھر نہ مسلمانوں کا ہے، نہ ہندؤوں کا ہے، نہ عیسائیوں کا کسی مذہب کا نہیں بلکہ تمام بنی نوع انسان کے لئے خدا تعالیٰ کی عبادت کی خاطر بنایا گیا اور اس کا مقصد یہ تھا کہ آئندہ زمانہ میں اس گھر میں وہ نبی پیدا ہو گا جس کے ذریعہ سارے بنی نوع انسان دین واحد پر اکٹھے ہوں گے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ دو ہی دفعہ دنیا ایک ہاتھ پر اکٹھی ہو سکتی ہے۔ ایک آغاز پر اور ایک انجام پر ۔ نبوت کا آغاز حضرت آدم علیہ السلام کے ذریعہ ہوا اور اس وقت کوئی تفریق نہیں تھی ، اس وقت بھی ناس ہی مخاطب تھے، کوئی مذہبی امتیاز نہیں تھا اور پہلا گھر غالباً حضرت آدم نے بنایا ہے کیونکہ حضرت آدم نے لازماً کوئی مسجد بنائی ہوگی اور اس سے پہلے نبوت کا کوئی پتہ نہیں چلتا ۔ پس معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے اس گھر کی بنیاد رکھی ہے اور اس وقت چونکہ مذہب کی تفریق نہیں تھی اس لئے آپ لِلنَّاسِ تھے۔ تمام بنی نوع انسان اور حضرت آدم ایک ہی چیز کے دو نام تھے۔ آپ بیج تھے اس آدمیت کا جس کو خدا تعالیٰ نے اپنے مکالمہ و مخاطبہ کے لئے چنا اور دوسری مرتبہ تب بنی نوع انسان کو مخاطب کیا جا سکتا تھا جب سارے بنی نوع انسان کو ایک دین کی طرف بلانے والا رسول آجائے یعنی حضرت محمد مصطفی 1 اس لئے یہ عبارت بڑی فصیح و بلیغ اور معنی خیز ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ اس میں یہ نہیں فرمایا کہ پہلا گھر جو تھا وہ ابراہیم کے لئے بنایا گیا یا داؤد کے لئے بنایا گیا یا موسی" کے لئے بنایا گیا یا نوح کے لئے بنایا گیا بلکہ یہ فرمایا کہ یہ ناس کے لئے بنایا گیا ہے ۔ جب بنایا گیا تھا اس وقت بھی سارے انسان اس سے وابستہ تھے اور اس کا انجام بھی ایسا ہو گا کہ تمام بنی نوع انسان اس گھر میں ایک خدا کی عبادت کے لئے اکٹھے ہوں گے یعنی رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ اور كَافَّةً لِلنَّاسِ رسول ظاہر ہو چکا ہوگا اس لئے میں نے کہا ہے کہ اس کے مقاصد میں سے سب سے بڑا مقصد حضرت محمد مصطفی ﷺ کی بعثت تھی ، گویا آپ کے پیدا ہونے پر اس گھر کے مقاصد کی تکمیل ہوئی ، وہ توحید کا علمبردار ، وہ خدائے واحد کی پرستش کرنے والا آگیا جس کی پرستش ہی خدا کو مقصود اور منظور تھی اور اس کی عبادت کے مقابل پر ساری کائنات کے عبادت صلى الله