خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 448 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 448

خطبات طاہر جلد ۲ 448 خطبه جمعه ۲۶ اگست ۱۹۸۳ء ہے اور بالآخر خدا کہتا ہے کہ تم تعلق مجھ سے رکھ لو، میری طرف جھکنا سیکھ لو۔بس یہ میں تمہیں کہتا ہوں پھر میری وسعتیں تمہاری وسعتیں ہو جائیں گی۔پھر تم اس مقام پر کھڑے ہو گے کہ کہو کہ أَنْتَ مَوْلنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ کہ اے خدا! اب بات تو یہیں ختم ہوتی ہے کہ ہمارا دوست تو ہے اور جس کا تو دوست ہو اس کے مقدر میں شکست کیسی۔جس کو تیری طاقتیں نصیب ہو جائیں وہ کسی اور کے در سے کیوں مدد مانگے۔کیوں کسی اور طرف جھکے اور کہے کہ ہمارے فلاں معاملہ میں ہماری مدد کرو۔وہ تو صرف تجھ سے مانگے گا اور اس بات پر ناز کرے گا کہ اللہ ہمارا مولا ہے لیکن اس مقام پر پہنچنے کے لئے انسان کو اپنے نفس کی تربیت کرنی پڑتی ہے اور اس مقام پر کھڑے ہونے کے لئے اپنے رب سے ایک گہری سچائی کا تعلق رکھنا پڑتا ہے۔ایک گہری محبت اور عشق کا تعلق اپنے رب سے رکھنا پڑتا ہے ورنہ خالی منہ سے مولنا کہہ دینے سے بات بنتی نہیں کیونکہ ولایت کا مضمون دو طرفہ ہے۔آپ جب تک خدا کا دوست نہ بننا چاہیں یا خدا کی طرف دوستی کا ہاتھ نہ بڑھائیں خدا آپ کا مولا نہیں بن سکے گا نہ بنے گا۔آنحضرت ﷺہ اس مضمون کا شاہکار ہیں۔سب سے زیادہ آنحضور ﷺ نے اپنے رب سے دوستی کا حق ادا کیا اور سب سے زیادہ اللہ آپ کا دوست بنا اسی لئے سورۃ محمد میں جو آنحضرت علی کے نام پر ہے خدا تعالیٰ نے اس مضمون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ذلِكَ بِأَنَّ اللهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوْا وَ أَنَّ الْكُفِرِيْنَ لَا مَوْلى لَهُمُ (محمد :۱۲) کہ محمد مصطفیٰ نے تمہیں یہ مضمون سکھا دیا ہے اَنَّ اللهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا اللہ ایمان لانے والوں کا مولا بن جاتا ہے۔وَأَنَّ الْكُفِرِينَ لَا مَوْلى لَهُمْ اور جو انکار کرنے والے ہیں ان کا کوئی مولا ہی نہیں۔تو مولا والے ہی فتح پائیں گے ان لوگوں پر جن کا مولا کوئی نہیں ہے۔اسی لئے فرمایا یہ دعا کرو کہ أَنْتَ مَوْلنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ کہ تو ہمارا مولا بن چکا ہے اور کافروں کا مولا کوئی نہیں اس لئے لازمی نتیجہ نکلنا چاہئے کہ ہمیں فتح نصیب ہو۔مثلاً جنگ بدر میں آنحضرت ﷺ کو مدد کی بڑی شدید ضرورت تھی۔۳۱۳ کمزور صحابہ بیجن کے پاس ہتھیار بھی پورے نہیں ان میں بیمار اور بوڑھے بھی تھے اور بچے بھی شامل تھے جو ایڑیاں اٹھا اٹھا کر جوان بن کر بیچ میں