خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 447 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 447

خطبات طاہر جلد ۲ 447 خطبه جمعه ۲۶ راگست ۱۹۸۳ء وہ منع کرتے رہتے ہیں لیکن اگر تھوڑی سی کھیل وہ کھیل لیں، ذرا سا مشغلہ کر لیں تو وہ اعراض کر لیتے ہیں، آنکھیں پھیر لیتے ہیں اور بعض دفعہ جب بچے بیہودہ حرکتیں کر رہے ہوں تو ماں باپ ان کی طرف دیکھتے نہیں، عمداً ان کی آنکھوں میں ایک غفلت سی آجاتی ہے کہ گویا ہم نے دیکھا ہی کچھ نہیں۔اس کو کہتے ہیں وَاعْفُ عَنَّا کہ اے خدا ہم سے عفو کا سلوک فرما۔چنانچہ میں نے دیکھا ہے حضرت مصلح موعودؓ کا بھی یہی طریق تھا کیونکہ انہوں نے اپنی عادتیں قرآن سے سیکھی تھی۔بچے کبھی بعض دفعہ لڈو کھیلتے ہیں اور حضرت صاحب پسند نہیں کیا کرتے تھے کہ وقت ضائع کریں لیکن سمجھتے تھے کہ آخر بچے ہیں کبھی کبھی لڈو کھیلنے بھی دیتے تھے اور اس طرح کہ آئے ہیں اور اس طرف نظر ہی نہیں ڈالی اوپر نظر سے باتیں کر کے واپس چلے گئے گویا دیکھا ہی نہیں اور جب دیکھتے تھے کہ زیادتی کرنے لگ گئے ہیں تو پھر وہ نظر نیچے ڈالتے تھے اور ہمیں بتادیتے تھے کہ اب میں پکڑنے پہ آیا ہوں۔پس انسان سے اگر کوئی عفو کر نے والا سلوک کر رہا ہو تو پھر غلطیوں کا امکان اس وجہ سے بھی بعض دفعہ ہو جاتا ہے۔بہت ہی پیارا اور عفو کر نے والا وجود ہو اس کے نتیجہ میں بھی بعض دفعہ گناہوں کے حوصلے بڑھ جاتے ہیں۔اس کے نتیجہ میں بھی تو بعض دفعہ انسان جان بوجھ کر غلطیاں کرنے لگ جاتا ہے کہ بہت ہی مہربان ہے ہمارا آقا، اس لئے اے خدا جب تو عفو کا سلوک فرمائے گا تو پھر بخشش کی تیاری بھی کر لینا، ہم سے لازماً پھر کچھ اور غلطیاں بھی ہوں گی اور و ارحمنا نے بات کھول دی کہ اے خدا! دراصل بات یہ ہے کہ ہم اپنے طور پر اپنی طاقتوں پر اپنے ذرائع سے کچھ نہیں کر سکتے ہم پر رحم فرما، ہم بے کار لوگ ہیں اور تسلیم کرتے ہیں کہ ہم بے کا ر لوگ ہیں۔رحم فرما اور جو تو نے ذمہ داریاں ڈالی ہیں ان میں ہماری وسعتوں پر نگاہ نہ کر اپنی وسعت پر نگاہ فرما۔اَنتَ مولنا نے یہ بات کھول دی۔آخری تان اس بات پر ٹوٹی کہ ہم نے مضمون اس طرح شروع کیا کہ خدا نے ہمیں سب کچھ عطا فرمایا ہے، وسعتیں عطا کی ہیں، ہم اپنے آپ کو ٹولیں اور دیکھیں اور اس کام میں آگے بڑھیں۔چنانچہ پوری ذمہ داری کے ساتھ بڑھنے لگے۔پھر محسوس ہوا کہ سب ذمہ داریاں ادا کرنے کے باوجود بھی ہم میں طاقت نہیں، کام بہت زیادہ ہے۔پھر نظر نے ڈھونڈا تو پتہ چلا کہ ہماری وسعتیں تو دراصل خدا کی طرف ہیں۔اس سمت میں کھلے ہوئے ہیں راستے وسعتوں کے۔اس سمت میں آگے بڑھے تو ایک بہت ہی پیارا مضمون نظر آیا۔ہر قدم پر مغفرت ہے، بخشش ہے ، خطاؤں کی معافی ہے اور محبت اور پیار کا سلوک