خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 446 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 446

خطبات طاہر جلد ۲ 446 خطبه جمعه ۲۶ اگست ۱۹۸۳ء منزل پر جا کر ہمیں جو خدا تعالیٰ نے خوب کھول کر ہماری ذمہ داریوں کو بیان فرما دیا ہے اس وقت پر جا کر ہم پر وہ بوجھ پڑنا ہولیکن اپنی غفلت اور اپنی نالائقی کے نتیجہ میں ہم نے اپنی وہ طاقت Develop ڈویلپ نہ کی ہو۔ایسے موقع پر اگر خدا وہ بوجھ ڈالے تو یہ نا انصافی نہیں ہوگی۔وسعت کے مطابق بھی ہوگا اور اس طاقت کے مطابق بھی ہو گا جو ہونی چاہئے تھی اس لئے خدا تعالیٰ نے اس مضمون کو ہمارے ذہنوں میں داخل فر مایا اور ہماری توجہ اس طرف مبذول فرمائی کہ تم ہر قدم پر ایک کمزور چیز ہو۔نہ اپنی وسعتوں سے پورا فائدہ اٹھا سکتے ہو نہ اپنی طاقتوں سے پورا فائدہ اٹھا سکتے ہواس لئے پھر تمہاری وسعتوں میں دعا داخل نہیں ہو گی تو تم کچھ بھی نہیں کر سکو گے، عجز داخل نہیں ہوگا تو تم کچھ بھی نہیں کر سکو گے۔اس لئے یہ بھی ہم سے مانگنا اور یہ عرض کیا کرنا کہ اے خدا! ہماری طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہ ڈال یعنی جس منزل پر چاہے ہماری غفلتیں بھی حائل ہوگئی ہوں جس منزل پر جو طاقت ہے تو اتنا رحم فرمانا کہ اس سے زیادہ بوجھ نہ ڈال دینا ورنہ ہم مارے جائیں گے۔ہوسکتا ہے اس سے زیادہ طاقت ہمیں حاصل کرنی چاہئے تھی لیکن ہم نہیں کر سکے۔یہ اقرار کرنے کے بعد اور یہ منت کرنے کے بعد کہ اے خدا! تو عالم الغیب ہے تو جانتا ہے ہمیں کیا کرنا چاہئے تھا تمام تفاصیل پر تیری نظر ہے لیکن ساتھ ہم یہ عرض کر چکے ہیں کہ ہم خطا کار ہیں ہم نسیان کے بھی شکار ہیں۔بار بار ہمیں نصیحت کی جاتی ہے پھر باتیں بھول جاتے ہیں، بار بار یاد کرائی جاتی ہیں پھر ذہن سے اتر جاتی ہیں ، ذمہ داریاں دکھلا دی جاتی ہیں پھر نظر سے اوجھل ہو جاتی ہیں، ہم اتنے کمز ور لوگ ہیں اس لئے ہم سے رحم کا سلوک فرما اور ہماری جو طاقت ہونی چاہئے اس پر فیصلہ نہ کرنا جو طاقت ہمیں کسی منزل پر میسر ہو اس کے مطابق ہم سے سلوک کر نالیکن پھر ان طاقتوں کو بڑھاتے چلے جانا۔آگے ایک مضمون آئے گا جو بالآخر بات کھول دے گا کہ ہم نے کہاں تک پہنچنا ہے اور کیا مانگنا ہے وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا۔اے خدا! دو قسم کے معاملات ہم سے فرما۔پہلا یہ کہ در گز ر فرما۔درگزر فرمانا اور مغفرت فرمانا ان دونوں چیزوں میں ایک نسبت ہے اور ایک کے بعد دوسرے کو رکھا گیا ہے۔وَاغْفِرْ لَنَا اس چیز کو کہتے ہیں کہ ایک غفلت ہو رہی ہے اس سے روکا بھی جا سکتا ہے لیکن انسان اس کو لائسنس دے دیتا ہے ، چھٹی دے دیتا ہے، کہتا ہے کوئی بات نہیں کر لو بے شک ، کچھ نہیں ہوتا۔چنانچہ ماں باپ بعض دفعہ بچوں کو بعض کھیلیں کھیلنے دیتے ہیں جن سے ویسے