خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 441 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 441

خطبات طاہر جلد ۲ 441 خطبه جمعه ۲۶ /اگست ۱۹۸۳ء کی فطرت میں ودیعت ہے لیکن اس پہلو سے بھی ہر وقت ایک احمدی کا جماعتی مسائل میں منہمک ہونا یہ ہمیں نظر نہیں آتا۔بسا اوقات اکثر احمدی اپنے دنیاوی اور گھریلو مسائل میں تو الجھے ہوئے دکھائی دیتے ہیں لیکن بہت کم ہیں جو دن رات اس فکر میں غلطاں ہوں کہ دین کا کیا بنے گا، ہم اپنی ذمہ داریاں کیسے ادا کریں گے ، کاموں کو آسان کرنے کے کیا ذرائع ہیں، ہم کس طرح تھوڑی کوشش کے ساتھ زیادہ حاصل کر سکتے ہیں۔یہ بھی ساری Resources Untapped پڑی ہیں لیکن میں نے یہ سب کچھ سوچا اور اندازہ لگایا اس کے باوجود میرے دل کا دیانت دارانہ فیصلہ یہ تھا کہ اگر سارے احمدی اپنی ساری طاقتیں بھی جھونک دیں تب بھی یہ ذمہ داری ادا نہیں کر سکتے۔ہماری بہت بڑی ذمہ داری ہے۔جہاں ہمارے دائرے پھیل رہے ہیں وہاں اندرونی ذمہ داریاں بھی مزید پیدا ہوتی چلی جارہی ہیں۔اگلی نسلوں کی تربیت کے مسائل ہیں، ان میں پیغام کو زندہ رکھنے کا سوال ہے۔ایک نیکی پر قائم ہو کر پھر اسے چھوڑنے کا جو رجحان قوموں میں ملتا ہے ، تن آسانی کا رجحان ملتا ہے ، یہ بھی ایک بڑی خطر ناک چیز ہے۔پس جہاں دائرے پھیلتے جاتے ہیں وہاں اندرونی تربیت کے معاملات بھی زیادہ سنگین نوعیت اختیار کرتے چلے جاتے ہیں۔پھر تیزی کے ساتھ اگر آپ پھیلنا بھی شروع کر دیں تو ان کی تربیت کے اتنے خطرناک مسائل سامنے آئیں گے کہ اگر ہمارے اندران نئے آنے والوں کی تربیت کی پوری اہلیت نہ ہوئی تو جس تیزی کے ساتھ وہ آئیں گے اس تیزی کے ساتھ احمدیت کو بگاڑنے لگ جائیں گے، اسی تیزی کے ساتھ دین کو نقصان پہنچانے لگ جائیں گے۔پس ان پہلوؤں پر غور کرنے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ قرآن کریم سے انسان ہدایت نہیں پاسکتا جب تک تقویٰ کے ساتھ ہدایت کی تلاش نہ کرے اور تقویٰ یہ نہیں ہے کہ قرآن کریم کی کوئی بات سمجھ آئے یا نہ آئے تم کہہ دو کہ ہاں سمجھ آگئی۔تقویٰ یہ ہے کہ جس بات کی سمجھ نہیں آئی اس حد تک تسلیم کرے کہ ہاں ہمیں سمجھ نہیں آئی۔میرے نفس نے بڑی دیانت داری کے ساتھ فیصلہ کیا ہے کہ جہاں تک احمدیت کی وسعت کا تعلق ہے ہر فرد اور جماعت کی اندرونی طاقتوں کے مجموعہ کا نام ہی جماعت کی وسعت ہے۔اس وسعت پر اگر ہم نظر ڈالیں تو ہم ان ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے اہل نہیں ہیں جو ذمہ داریاں تمام دنیا میں اسلام کے تقاضے پورے کرنے کے لئے ہمارے کندھوں پر ڈالی گئی ہیں۔اسلام کی تبلیغ کے لئے ،