خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 438 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 438

خطبات طاہر جلد ۲ 438 خطبه جمعه ۲۶ /اگست ۱۹۸۳ء ہمیں پتہ ہے یہ سب بکواس ہے، انسان کہاں ٹوٹ سکتا ہے۔چنانچہ انہوں نے اس کا یہ علاج سوچا کہ اچانک بہت زور سے اس کو تھپڑ مارا یہ ثابت کرنے کے لئے کہ دیکھو تم نہیں ٹوٹ گئے۔تمہیں اپنے آپ پر اعتماد ہونا چاہئے لیکن اس کی اندرونی کیفیت اتنی نازک ہو چکی تھی کہ اس کے منہ سے چھن چھن کی آواز نکلی اور وہ وہیں حرکت قلب بند ہو جانے کی وجہ سے گر کر مر گیا۔اس کو اتنا یقین تھا کہ میں شیشے کا ہوں کہ اس یقین کے احساس نے اس کا دل بند کر دیا۔پس انسانی حالات کے مختلف تقاضے ہیں جن میں باریک فرق ہیں کہ کوئی دوسرا انسان خواہ کسی فن کا ماہر کیوں نہ ہو نہ اس کی وسعتوں کا پتہ کر سکتا ہے اور نہ اس کی ضرورتوں کا اندازہ کر سکتا ہے صرف اللہ ہی ہے جو یہ کہہ سکتا ہے کہ لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا۔پس اس پہلو سے اس میں ایک بڑی بھاری تبشیر ملتی ہے اور وہ ذمہ داریاں جو خدا ڈالتا ہے ان کے متعلق تو ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ ہم ان ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے اہل ہیں۔تبشیر کا یہ پہلو جب انسان کو مزید غور پر متوجہ کرتا ہے تو پھر ایک خوف کا اثر آہستہ آہستہ غالب آنے لگتا ہے۔مثلاً جماعت احمد یہ ہے۔جماعت احمدیہ کی ذمہ داری کیا ہے جو خدا تعالیٰ نے ڈالی ہے: تمام دنیا کو مسلمان بنانا ، تمام ادیان باطلہ پر اسلام کو غالب کرنا اور اس انسان کی تقدیر کو بدل دینا جس کے متعلق خدا فرماتا ہے وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرِ (احصر ۳۲) زمانہ کی قسم زمانہ گواہ ہے کہ یہ انسان لازماً گھاٹا کھانے والا ہے۔اپنے سود و زیاں کا تو انسان کو پورا ہوش نہیں ہوتا سارے زمانہ کے زیاں کو سود میں بدل دینا سارے نقصان کو فائدہ میں تبدیل کر دینا یہ ذمہ داری ہے جو ہم پر ڈالی گئی ہے۔ایک طرف یہ آیت تبشیر بھی کر رہی ہے دوسری طرف جب انسان اپنی کمزوریوں پر نگاہ ڈالتا ہے یعنی بے بسی اور بے اختیاری کو دیکھتا ہے، کام کے بے شمار ہجوم نظر آتے ہیں اور دنیا کا واقعاتی جائزہ لیتا ہے تو انسان سمجھتا ہے میں اس کا بالکل اہل نہیں ہوں ، مجھ میں کہاں طاقت ہے کہ میں کسی ایک ملک کو بھی بدل سکوں۔صرف ایک ہندوستان پر ہی اگر جماعت احمد یہ اپنی تمام توجہ مبذول کر دے تو جہاں تک دنیا کے حالات کا تعلق ہے اور جہاں تک ہمارے ذرائع کا تعلق ہے ہم ایک صوبے کے ہندوؤں کو بھی بظاہر مسلمان بنانے کی اہلیت نہیں رکھتے۔پھر آپ دنیا کی وسعتوں پر نظر ڈالیں کتنے بڑے بڑے وسیع ممالک ہیں جو د ہر یہ ہو چکے ہیں وہ خدا ہی کو نہیں مانتے۔ہم ان کی