خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 437
خطبات طاہر جلد ۲ 437 خطبه جمعه ۲۶ اگست ۱۹۸۳ء انسان اپنی جان پر اپنی طاقت سے بڑھ کر بوجھ ڈال لیتا ہے۔یہاں اس عام انسانی کیفیت اور حالات کا ذکر نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے متعلق فرماتا ہے کہ میں کسی انسان پر یا کسی جان پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔وہ انسان جو دوسروں پر طاقت سے بڑھ کر بوجھ ڈالنا نہیں چاہتے اور یہ ادعا کرتے ہیں کہ ہم طاقت کے مطابق بوجھ ڈالتے ہیں، وہ بھی دراصل اپنے ادعا میں خام ہوتے ہیں ، ان کے دعوی کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی کیونکہ جب تک کوئی یہ جائزہ لینے کا اہل نہ ہو کہ اس کی طاقت کیا ہے اس وقت تک وہ یہ دعویٰ کر ہی نہیں سکتا کہ میں طاقت کے مطابق بوجھ ڈالتا ہوں یا طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔اشتراکیت کا ایک نعرہ ہے کہ ہر شخص کو اس کی ضرورت کے مطابق دو اور اس کی طاقت کے مطابق اس سے کام لو۔یہ دونوں نعرے اسی پہلو سے کھو کھلے ہیں کہ ہرانسان کا مزاج ، اس کی اندرونی کیفیات، اس کا ماحول، اس کے ماں باپ کے مزاج کے اثرات، اس کی اپنی بعض کمزور یا بعض مضبوط پہلو یہ سارے مل کر اس کی ایک شخصیت کی تعمیر کرتے ہیں اور یہ جو شخصی تعمیر ہے یہ ضرورت کا فیصلہ کرتی ہے کہ اس کی ضرورت کیا ہے اور انسان کے لئے ممکن ہی نہیں ہے کہ کسی دوسرے انسان کی ضرورت کی تعیین کر سکے صرف خدا کے لئے ممکن ہے۔اور اسی طرح جب کہتے ہیں کہ طاقت کے مطابق کام لو تو ہر ایک کی طاقت کا فیصلہ کرنا ہر ایک کے بس کی بات ہی نہیں ہے۔مختلف مزاج کے لوگ ہیں ان کے مختلف حالات ہیں۔بعض اندرونی کمزوریاں ہیں بعض دفعہ انسان کہتا ہے کہ مجھے بڑی سخت کمزوری ہو گئی ہے اور دوسرا آدمی کہتا ہے کہ بکواس کر رہا ہے جھوٹ بولتا ہے بہانے کر رہا ہے اس کو ہر گز کوئی کمزوری نہیں اس کے اوپر بوجھ ڈالنا چاہئے۔اب ہوسکتا ہے کوئی اسے ظالم سمجھے لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اسکی وسعت میں ہی نہیں ہے کہ وہ دوسرے کو سمجھ سکے اور اس نے ایک اندازہ لگایا ہے۔وہ اپنی جگہ بے اختیار ہے یہ اپنی جگہ بے اختیار ہے۔انسان کے حالات اندرونی طور پر بہت مختلف ہوتے ہیں کہ بعض دفعہ ایک معقول آدمی سارے علم کے باوجود بھی دوسرے آدمی کو سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔چنانچہ ایک پاگل کے متعلق ذکر آتا ہے کہ اس کو یہ وہم تھا کہ وہ شیشے کا ہو چکا ہے اور لوگوں سے کہا کرتا تھا کہ مجھے زور سے ہاتھ نہ لگانا میں ٹوٹ جاؤں گا اور بہت ہی احتیاط سے اور ملائمت کے ساتھ گدے وغیرہ رکھ کر چیزوں پر بیٹھتا تھا اور ہر طرح سے اپنا خیال رکھتا تھا کہ میں کسی دن ٹوٹ نہ جاؤں۔ایک ماہر نفسیات کے پاس اسے لے جایا گیا اور ماہر نفسیات یہ سمجھتے تھے کہ