خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 436
خطبات طاہر جلد ۲ 436 خطبه جمعه ۲۶ را گست ۱۹۸۳ء انسان جب ان عظیم ذمہ داریوں پر نگاہ ڈالتا ہے جو اس پر ڈالی جاتی ہیں تو خواہ وہ کسی منصب سے تعلق رکھتا ہو کسی حیثیت کا انسان ہو اگر وہ باشعور ہے اور اپنے حالات کا جائزہ لینے کی اہلیت رکھتا ہے اور بصیرت رکھتا ہے تو اس کا جواب ہمیشہ یہی ہوگا کہ میں ان ذمہ داریوں کا حق ادا کرنے کا اہل نہیں ہوں اور یہ ذمہ داریاں میری طاقت سے بڑھ کر ہیں۔ایک زمیندار خواہ مزارع ہو یا مالک ہو وہ بھی نہ زمین کے تقاضے پورے کر سکتا ہے جو بحیثیت زمیندارا سے پورے کرنے چاہئیں۔اور اگر وہ اہلیت رکھتا بھی ہو تو بہت سی چیزیں اس کے اختیار میں نہیں ہیں اور بے بس ہو جاتا ہے۔ایک مزدور اپنی مزدوری کے تقاضے پورے نہیں کر سکتا تعمیراتی کام کا ایک نگران تعمیر کے تقاضے پورے نہیں کر سکتا، غرض یہ کہ اس سے بحث نہیں کہ کسی پر کتنی بڑی ذمہ داری ڈالی گئی یا کتنی چھوٹی ، انسان ایک بے بس چیز ہے بے اختیار چیز ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ہر ذمہ داری جوانسان پر ڈالی جاتی ہے وہ اسے طاقت سے بڑھ کر معلوم ہوتی ہے۔دل میں خوف پیدا ہوتا ہے اور انسان سوچتا ہے کہ یہ ذمہ داری کیسے ادا کروں گا۔دوسری طرف قرآن کریم کی اس آیت پر نظر پڑتی ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک عظیم الشان خوشخبری دی جارہی ہے لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا کہ اللہ تو کسی جان پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا اور اس کی انسان کے پاتال تک نظر ہے۔وہ اپنی ہر تخلیق کی کنہ تک واقف ہے، اپنی ہر تخلیق کی کمزوریوں سے بھی واقف ہے اور اس کے ان پہلوؤں سے بھی واقف ہے جو بطور خوبیاں ودیعت کی گئیں۔ان دونوں پہلوؤں پر جس علیم وخبیر ہستی کی نظر ہوا گر وہ یہ کہے کہ لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا اللہ کی نفس پر اس کی وسعت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا تو یہ ایک عظیم الشان خوشخبری ہے اور گویا یہ پیغام ہے کہ تمہیں بوجھ زیادہ نظر آرہے ہیں حقیقت میں زیادہ بوجھ نہیں تمہاری وسعت کے مطابق ہیں۔یہاں ایک فرق کرنا ضروری ہے ورنہ احباب کے ذہن میں مضمون الجھ جائے گا۔فرق یہ ہے کہ یہ نہیں فرمایا کہ انسان دوسرے انسان پر طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔یہ بھی نہیں فرمایا کہ انسان اپنے اوپر اپنی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا کیونکہ یہ دونوں واقعات دنیا میں ہمیں روزانہ دکھائی دیتے ہیں۔بسا اوقات انسان دوسرے انسانوں پر ان کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ ڈال دیتا ہے یہاں تک کہ وہ ان بوجھوں تلے ٹوٹ جاتے ہیں اور تب بھی کام کا حق ادا نہیں کر سکتے۔بعض اوقات